نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز نے ترجمان این سی سی آئی اے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی بوسن روڈ پر قائم ایک نجی اسکول میں کی گئی، جہاں سے کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث گروہ کو گرفتار کیا گیا۔
گرفتار افراد شہریوں کو جعلی ادارے "نیچرل لائف اسکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ" کے نام سے آن لائن روزگار اور تربیت کا جھانسہ دے کر رقم بٹورتے تھے۔
کارروائی کے دوران مرکزی ملزم عبدالغفار سمیت 8 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں نثار احمد، معاویہ، حذیفہ تنویر، حماد حسن، اسد سلیم، خالد اور زین عباس شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بہاءالدین یونیورسٹی کا ڈیپارٹمنٹ چیئرمین معطل، لڑکیوں کو ہراساں کرتا تھا یا وجہ کچھ اورہے؟
ایجنسی کے مطابق ملزمان نے فیس کے بہانے شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کیے، جبکہ چھاپے کے دوران متعدد موبائل فونز، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور مالی ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں واٹس ایپ اور ٹیلیگرام گروپس کے ذریعے جعلسازی اور بلیک میلنگ کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
این سی سی آئی اے کے مطابق مقدمہ نمبر 252/2025 پیکا ایکٹ 2016 اور تعزیراتِ پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ہے، جب کہ مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب این سی سی آئی اے حکام نے ملتان ایئرپورٹ پر کارروائی کرکے بیرون ملک سے واپس آنے والے چائلڈ پورنوگرافی کیس میں مطلوب ٹک ٹاکر محمد آصف کو گرفتار کرلیا ہے۔
ترجمان این سی سی آئی اے نے کہا ہے کہ چائلڈ پورنوگرافی کیس میں مطلوب ٹک ٹاکر محمد آصف نے نازیبا ویڈیوز شیئر کیں۔ ملزم پر کم عمر لڑکوں کےساتھ نازیبا حرکات کے الزامات ہیں، ملزم نے ٹک ٹاک پر بچوں کے لیے آن لائن بولی بھی لگوائی۔
مزید بتایا کہ ملزم فحش مواد ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرنے میں ملوث پایا گیا، ملزم طویل عرصہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا۔ ملزم کے خلاف بین الااقوامی اداروں نے بھی شکایات درج کروائی تھیں، اس کے خلاف سال 2024 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔







