تفصیلات کے مطابق خاتون، جو گریڈ–17 میں سرکاری فرائض انجام دے رہی ہیں، نے اپنی درخواست میں بتایا کہ ان کی شادی 2020 میں ہوئی اور وہ ایک دو سالہ بچے کی والدہ ہیں۔

 ان کے مطابق چند روز قبل ایک گمنام فیس بک پیج پر ان کی اور ان کے شوہر کی نجی نوعیت کی ویڈیوز بغیر اجازت اپ لوڈ کی گئیں، جو بعد ازاں واٹس ایپ گروپس میں بھی پھیل گئیں۔

متاثرہ خاتون نے درخواست میں مواقف اپنایا کہ اُن کو اس واقعے کا علم 14 نومبر کو ہوا۔ جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے اگلے ہی روز ایف آئی اے کے آن لائن پورٹل پر پہلی کمپلینٹ درج کرائی۔

 شکایت کے بعد متعلقہ فیس بک پیج کو بلاک کر دیا گیا، مگر مسئلہ ختم نہ ہوا۔ ان کے مطابق نامعلوم افراد نے نیا پیج بنا کر دوبارہ ویڈیوز نشر کرنا شروع کر دیں اور دھمکیاں دیں کہ وہ روزانہ نیا پیج بنا کر دوبارہ ویڈیو وائرل کرے گا۔

اسی صورتحال کے پیشِ نظر متاثرہ خاتون کے بھائی نے ایک اور شکایت ایف آئی اے  کو جمع کرائی، جس میں نامعلوم افراد کے خلاف کارروائی اور ان کے اکاؤنٹس کی بندش کا مطالبہ کیا گیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ ویڈیوز اصل میں ان کے گھر کے نجی لمحات پر مشتمل تھیں، جو کسی نامعلوم شخص کے ہاتھ لگیں اور بعد ازاں جان بوجھ کر وائرل کی گئیں۔ ان کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف ان کی عزتِ نفس اور ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ذہنی دباؤ میں بھی شدید اضافہ کیا ہے۔

خاتون نے اپنی درخواست میں مطالبہ کیا ہے کہ نامعلوم افراد کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جائیں، نجی ویڈیوز اور تصاویر فوری ڈیلیٹ کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ سائبر ہراسگی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر قانونی شیئرنگ پاکستان کے سائبراسٹیشن اور نیشنل سائبر کرائم ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرائم ہیں، جن کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کو قید اور جرمانے دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔