لاہور یونیورسٹی میں فضائی آلودگی اور اسموگ کے خاتمے سے متعلق خطاب کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ماضی میں اسموگ کو صرف تین ماہ کا مسئلہ سمجھا گیا اور مکمل شٹ ڈاؤن معمول تھا، تاہم موجودہ حکومت اسکول بند کیے اور سسٹم شٹ ڈاؤن کیے بغیر اسموگ کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عہدہ سنبھالتے ہی اسموگ کے خاتمے پر پہلی میٹنگ بلائی اور پہلی بار اس مسئلے کو ملٹی سیکٹورل لینز سے دیکھتے ہوئے جامع حکمت عملی اختیار کی گئی۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ بھٹے، گاڑیاں، صنعتیں اور فصلوں کی باقیات اسموگ کے بڑے اسباب ہیں۔ گاڑیوں کے دھویں کی جانچ کے لیے باقاعدہ سرٹیفیکیشن اور مانیٹرنگ سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جب کہ 654 افراد پر مشتمل انوائرمنٹل فورس قائم کر کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کے بعد کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔ خراب اے کیو آئی مانیٹرز کی جگہ 41 جدید مانیٹرنگ اور فارکاسٹ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قوانین عوامی صحت اور سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ 7 ہزار صنعتوں کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے، جب کہ حکومت خود ڈیٹا اور ہیلتھ ایڈوائزری جاری کر رہی ہے۔ عوام کے لیے اے کیو آئی موبائل ایپ، چیٹ بوٹ اور ہیلپ لائن بھی فعال کر دی گئی ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ 15 اسموگ گنز اور ڈسٹ سپریشن سسٹمز متعارف کرائے گئے ہیں اور کاہنہ میں لوکلائزڈ ایکشن کے ذریعے اے کیو آئی کم کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی۔ کسانوں کو 60 فیصد سبسڈی پر ہزاروں سیڈر فراہم کیے گئے ہیں، جب کہ اسٹبل برننگ کے خلاف سڈن رسپانس سسٹم اور ڈرون سرویلنس شروع کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے تمام 11 ہزار بھٹے اب سفید دھواں دے رہے ہیں، صنعتوں کی چمنیوں پر کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں اور انڈسٹری کمپلائنس سسٹم لانچ کیا جا چکا ہے۔ 11 ہزار ای موبلٹی گرین بسیں متعارف کرائی گئی ہیں جن پر کیو آر کوڈڈ انوائرمنٹل سرٹیفیکیشن بھی جاری کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ رہا، انڈین میڈیا پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے: عطاء اللہ تارڑ
سینئر صوبائی وزیر کے مطابق تمام کنسٹرکشن سائٹس پر سپرنکلرز لازمی قرار دیے گئے ہیں جبکہ کچرا، بھوسہ اور فصلوں کو آگ لگانا اب جرم ہے۔ گرین کاربن کریڈٹ پروگرام کو عوامی رویوں میں تبدیلی کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے پنجاب میں اے کیو آئی مانیٹرنگ اور اسموگ کے خلاف اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیالکوٹ میں 31 ٹینریز کو انڈسٹریل زون میں منتقل کر دیا گیا ہے اور پہلے مقامی اسموگ پر قابو پایا جائے گا، اس کے بعد ٹرانس باونڈری اسموگ پر بات کی جائے گی۔ مریم اورنگزیب کے مطابق فلپائن اور بنگال نے پنجاب کے اقدامات کو سراہا ہے، جب کہ تمام اضلاع میں کلائمیٹ چینج سے متعلق آگاہی مہم جاری ہے۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ نصاب میں مانٹیسوری سے آگے کلائمیٹ چینج کو شامل کیا جا رہا ہے اور سیاسی عزم کے بغیر ماحولیاتی بہتری ممکن نہیں۔







