خیبر پختونخوا کی یوتھ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ایک سال کی طلبہ سیاست نے انہیں زندگی کے کئی اہم سبق سکھائے۔ انہوں نے نوجوانوں کو سیاست میں آگے لانے اور انہیں مؤثر پلیٹ فارم دینے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض تنقید کے بجائے شیڈو کیبینٹ بنانی چاہیے، بدقسمتی سے آج کی سیاست کسی سرکس کا منظر پیش کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں وڈیروں، زمینداروں اور جاگیرداروں کی سیاست ہوا کرتی تھی مگر اب سیاست کا رخ مزید بگڑ چکا ہے۔

عطا تارڑ نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ترقی کو ترجیح دی اور ترقیاتی منصوبوں کو گلی محلوں تک پہنچایا۔ انہوں نے لیپ ٹاپ اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ خالصتاً میرٹ پر شروع کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران لیپ ٹاپ اسکیم کی بدولت تعلیم اور معیشت کا پہیہ چلتا رہا جو اس منصوبے کی افادیت کا واضح ثبوت ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنقید تب ہونی چاہیے جب خود اس سے بہتر کارکردگی دکھائی جائے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب غریب بچوں کے لیے منصوبے بنتے ہیں تو ان پر تنقید شروع ہو جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دانش اسکولوں کے قیام پر بھی مخالفت کی گئی مگر وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ غریب بچوں کو معیاری تعلیم دینے کے لیے یہ اسکول ضرور بنائے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فوج پر جھوٹے الزامات کسی کی نالائقی یا کرپشن چھپا نہیں سکتے، طلال چوہدری

عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے لیکن بدانتظامی کے باعث وسائل کا درست استعمال نہیں ہو رہا اور بعض مقامات پر صرف ماربل نکالنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زینب قتل کیس فرانزک لیب کی مدد سے حل کیا گیا۔ لاہور دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سیف سٹی منصوبے کے ذریعے سہولت کار کو گرفتار کیا گیا اور بعد میں اسے سزائے موت سنائی گئی۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست اب گانوں اور شعر و شاعری تک محدود ہو چکی ہے جبکہ اصل ضرورت مسابقت اور کارکردگی کی سیاست کی ہے۔