پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ روز اس وقت پیش آیا جب مولانا محمد ادریس معمول کے مطابق اپنے گھر سے مدرسے جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت نصب کیمروں کی مدد سے جائے وقوعہ اور ملزمان کی نقل و حرکت کا ریکارڈ حاصل کیا گیا ہے۔ حاصل ہونے والی فوٹیج میں چار مشتبہ افراد کو دیکھا گیا ہے، جن میں سے ایک کی شناخت کرلی گئی ہے جبکہ دیگر کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی سرحد پار افغانستان میں کی گئی، اور شناخت ہونے والا حملہ آور بھی مبینہ طور پر افغانستان سے تعلق رکھتا ہے۔ سیکیورٹی ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور ممکنہ روابط کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے، جس میں دہشتگردی، ذاتی دشمنی اور سیاسی محرکات سمیت تمام امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے فرانزک تجزیہ بھی شروع کر دیا گیا ہے تاکہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

دوسری جانب علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کو فوری گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔