قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (این ڈی ایم اے) کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں 7، سندھ میں 2، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں ایک، ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد 25 رہی، جن میں پنجاب کے 20، خیبرپختونخوا کے 3 اور سندھ کے 2 افراد شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 26 جون سے شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دوران اب تک 97 افراد جاں بحق جبکہ 297 زخمی ہو چکے ہیں۔ اس عرصے میں 447 مکانات کو نقصان پہنچا اور 269 مویشی ہلاک ہوئے ہیں۔
این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔
ادھر محکمہ موسمیات نے سندھ کے مختلف اضلاع میں آئندہ دو روز کے دوران مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمہ کے مطابق جنوب مغربی راجستھان اور ملحقہ علاقوں میں کم دباؤ کا نظام موجود ہے، اگرچہ اس کی شدت میں کمی متوقع ہے، تاہم طاقتور مون سون ہوائیں جنوبی اور وسطی پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہ یار، حیدرآباد، سانگھڑ، شہید بینظیر آباد، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر، خیرپور اور نوشہرو فیروز میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
کراچی میں آئندہ تین روز تک مطلع ابر آلود اور موسم مرطوب رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ آج ہلکی بارش یا بوندا باندی جبکہ پیر اور منگل کو تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے۔
بارشوں کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال بھی پیدا ہوگئی ہے۔ میانوالی میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے سے حفاظتی بند ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں جبکہ بند کی مرمت کا کام جاری ہے۔
دریائے راوی میں بھی نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے اور محکمہ آبپاشی پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
سندھ کے ضلع دادو میں گاج ندی میں طغیانی کے باعث 10 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں آمدورفت کشتیوں کے ذریعے جاری ہے۔
تھرپارکر کے علاقے ننگرپارکر میں گزشتہ دو روز کے دوران 150 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے، تاہم مقامی افراد نے بارش کو صحرائی خطے کے لیے رحمت قرار دیا ہے۔
گلگت بلتستان میں چلاس اور گردونواح میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں، جبکہ استور ویلی روڈ گزشتہ چھ روز سے بند ہونے کے باعث علاقے میں اشیائے خورونوش کی قلت پیدا ہونے لگی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق بھاری مشینری کے ذریعے سڑک بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ سندھ، جنوبی پنجاب، مشرقی بلوچستان اور بالائی علاقوں میں مزید تیز بارشوں کے باعث پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی، نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب اور پانی جمع ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، برساتی ندی نالوں اور سیلابی ریلوں کے قریب نہ جانے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔






