وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی میں نہایت کم حصہ ڈالتے ہیں، لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان ماحولیاتی تنزلی کی بھاری انسانی اور معاشی قیمت ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، شدید گرمی کی لہریں، گلیشیئرز کا پگھلاؤ، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کی واضح مثالیں ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس سال عالمی یوم ماحولیات کا موضوع ’’موسمیاتی اقدامات‘‘ اس امر کی یاددہانی ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت قابل تجدید توانائی کے فروغ، جنگلات کی بحالی، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آبی وسائل کے مؤثر انتظام، آلودگی میں کمی، موسمیاتی موافق زراعت اور سبز صنعتوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی صلاحیتیں، توانائی اور اختراعی سوچ ایک سرسبز، محفوظ اور موسمیاتی لحاظ سے مضبوط پاکستان کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں، جب کہ ماحول دوست شعور اور جدید ٹیکنالوجی پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔

وزیراعظم نے شہریوں، اداروں، کاروباری طبقے اور کسانوں سے اپیل کی کہ وہ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی استحکام کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ماحول دوست طرز زندگی اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پانی اور توانائی کے وسائل کا تحفظ، شجرکاری اور جنگلی حیات کا تحفظ ہماری قومی ترجیحات ہونی چاہئیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر، صاف ستھرا اور پائیدار مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔