ضلعی انتظامیہ کے مطابق موسیٰ خیل کے علاقے راڑا شم اور اس سے ملحقہ دیہات خاص طور پر چاپ میں زلزلے کے باعث 90 سے زائد مکانات مکمل یا جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ بیشتر مکانات کچے ہونے کے باعث جھٹکوں کی شدت برداشت نہ کر سکے، جس سے کئی خاندانوں کا قیمتی سامان بھی ملبے تلے دب گیا۔
ڈپٹی کمشنر موسیٰ خیل عبدالرازق خجک نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں دیواریں گرنے اور گھروں کے منہدم ہونے کے مختلف واقعات میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں اور طبی مراکز منتقل کیا گیا، جہاں انہیں علاج اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کو ہنگامی بنیادوں پر سنبھالنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں امدادی اور ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دی ہیں۔ ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لینے، متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنے اور فوری امداد کی فراہمی کے لیے سرگرم عمل ہیں، جبکہ متاثرہ مکانات کا سروے بھی شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ضلع کوہلو میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق کوہلو میں آنے والے زلزلے کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز کوہلو سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوہلو میں تازہ جھٹکوں سے کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی طور پر صورتحال کی نگرانی جاری رکھی ہوئی ہے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوہلو اور اس کے گردونواح میں گزشتہ روز بھی متعدد مرتبہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ پہلے جھٹکے کی ریکارڈنگ صبح 10 بج کر 25 منٹ، دوسرے کی 10 بج کر 58 منٹ جبکہ تیسرے جھٹکے کی شام 4 بج کر 49 منٹ پر ہوئی، جس کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔ مسلسل آنے والے جھٹکوں نے مقامی آبادی میں شدید خوف پیدا کر دیا ہے۔
زلزلے کے اثرات ضلع بارکھان، ژوب، راکھنی اور دیگر قریبی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، جہاں شہری حفاظتی اقدامات کے تحت گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ اگرچہ ان علاقوں سے بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، تاہم انتظامیہ نے صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: وینزویلا میں تباہ کن زلزلوں سے ایمرجنسی نافذ، یہ ملک زلزلوں کی زد میں کیوں رہتا ہے؟
ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور نقصانات کی مکمل رپورٹ مرتب کی جا رہی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آفٹر شاکس کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، افواہوں سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔
واضح رہے کہ بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے زلزلہ خیز خطے میں واقع ہے، جہاں وقتاً فوقتاً مختلف شدت کے زلزلے آتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں مضبوط تعمیرات، حفاظتی منصوبہ بندی اور بروقت امدادی اقدامات انسانی جانوں اور املاک کے نقصان کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔







