جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کے بعد دونوں مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی۔

سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے راحیلہ شاہد نے دلائل پیش کیے اور عدالت سے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی استدعا کی۔

یاد رہے کہ انسدادِ دہشتگردی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ عدالت نے ریپ کے جرم میں سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال قید کی سزا بھی دی تھی۔

یہ مقدمہ ستمبر 2020 میں پیش آنے والے ملک کے انتہائی ہولناک جرائم میں شمار ہوتا ہے، جب لاہور کے قریب موٹروے پر رات کے وقت ایک خاتون کو بچوں کے سامنے ڈکیتی کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے بجٹ کی منظوری روکنے کے لیے دھرنا دیں گے، سہیل آفریدی

واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات کے دوران پہلے ملزم شفقت بگا کو گرفتار کیا، جب کہ بعد ازاں مرکزی ملزم عابد ملہی کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد انسدادِ دہشت گردی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزائیں برقرار رہیں گی، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق ملزمان کو اب بھی اعلیٰ عدالتوں میں مزید اپیل کا حق حاصل ہے۔