رپورٹ کے مطابق موٹروے پولیس نے سال بھر میں 18 ہزار سے زائد مسافروں کو ہنگامی اور بروقت طبی امداد فراہم کی، جب کہ ٹول فری ہیلپ لائن 130 کے ذریعے 5.4 ملین سے زائد افراد کو رہنمائی دی گئی۔ سہولت کاری کے اقدامات کے تحت 18,500 ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے، جب کہ محفوظ ڈرائیونگ کے فروغ کے لیے ملک بھر میں 2,674 روڈ سیفٹی پروگرامز منعقد کیے گئے۔

گشت کے دوران موٹروے پولیس نے گمشدہ قیمتی اشیاء برآمد کر کے اصل مالکان کے حوالے کیں، جن میں طلائی زیورات، 186 موبائل فون، 48 بٹوے اور 331 دیگر قیمتی اشیاء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 48 مسروقہ اور 17 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بھی برآمد کر کے متعلقہ حکام کے سپرد کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 169 لاپتہ بچوں کو بحفاظت ان کے اہل خانہ سے ملایا گیا، جب کہ 70 خطرناک مجرموں کو گرفتار کر کے ضلعی پولیس کے حوالے کیا گیا۔ قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں کے دوران 29 غیر قانونی ہتھیار، 1,349 گولہ بارود، 309 کلوگرام منشیات، 2,450 لیٹر شراب اور 10 ہزار سے زائد کارٹن نان کسٹم پیڈ سگریٹس برآمد کر کے متعلقہ اداروں کے حوالے کیے گئے۔

مزید برآں سمگلنگ کی 7 کوششیں اور ڈکیتی کی 6 وارداتیں ناکام بنائی گئیں۔ ٹریفک قوانین کے نفاذ کے حوالے سے 13.2 ملین سے زائد چالان جاری کیے گئے، جب کہ سنگین خلاف ورزیوں اور تیز رفتاری کے خلاف مہم کے دوران 11 ہزار سے زائد ڈرائیوروں کے خلاف ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ سال کے دوران مجموعی طور پر 690 ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 349 مہلک اور 341 غیر مہلک حادثات شامل ہیں۔

این ایچ ایم پی کے مطابق سوشل میڈیا ٹیم اور ایف ایم 95 ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے مسافروں کو سڑک کی صورتحال اور حفاظتی ہدایات سے مسلسل آگاہ رکھا گیا، جب کہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے ماہانہ کھلی کچہریوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ رپورٹ میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس قانون کے یکساں نفاذ اور عوامی خدمت کے اعلیٰ معیار کے لیے پرعزم ہے اور شہریوں کے لیے محفوظ اور باعزت سفری سہولیات کی فراہمی اس کی اولین ترجیح ہے۔