دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے  کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان نے انسانی وقار، بنیادی آزادیوں اور ہر فرد کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم کو ایک بار پھر دہرایا ہے۔

جاری بیان کے مطابق پاکستان نے اپنے بین الاقوامی فرائض اور انسانی حقوق کے فروغ کے عزم کے تحت خصوصاً خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے گزشتہ برسوں میں متعدد ادارہ جاتی، پالیسی اور قانون سازی کے اقدامات کیے ہیں۔

حالیہ منظور کیا گیا نیشنل کمیشن فار مائنورٹیز ایکٹ 2025 اقلیتوں کو مؤثر قانونی و شکایتی فورم فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کے حالیہ انتخاب کو انسانی حقوق کونسل کا رکن بننے کے حوالے سے بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ انتخاب عالمی برادری کے پاکستان پر اعتماد کی مضبوط علامت ہے۔ پاکستان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ کونسل کے تمام اراکین کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرتا رہے گا اور انسانی حقوق کے تمام پہلوؤں بالخصوص معاشی، سماجی، ثقافتی حقوق اور حقِ ترقی کو اہمیت دیتا رہے گا۔

دفترِ خارجہ نے کہا کہ اس دن کی مناسبت سے دنیا کو اُن خطّوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے جہاں غیر ملکی قبضے کے باعث لاکھوں لوگ بنیادی حقوق، وقار اور آزادیوں سے محروم ہیں۔

بیان میں واضح کیا گیا کہ انڈین غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر  اور فلسطینی علاقوں میں عوام اب بھی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ وہ اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

پاکستان نے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا کو اس چیلنج کے مقابلے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ اس سے کئی معاشروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت، امتیاز اور بدنامی بڑھ رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کے لیے بغیر کسی امتیاز کے اپنا عزم برقرار رکھے گا۔ عالمی تعاون بڑھا کر دنیا انسانی حقوق کو درپیش موجودہ اور نئے چیلنجوں کا مؤثر حل تلاش کر سکے گی۔