سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق سپریم کورٹ کے تحریری فیصلہ میں تین رکنی بنچ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل تھا، فوجداری پٹیشن نمبر 99-پی/2019 اور جیل پٹیشن نمبر 614/2019 کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ بنچ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو درست اور قانون کے مطابق قرار دیا۔

مقدمے کے مطابق گلزار پر الزام تھا کہ اس نے سات ستمبر 2007 کو مردان میں ریاض نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کیا۔ زخمی ریاض نے ہسپتال میں ہوش و حواس کی حالت میں ملزم کے خلاف بیان دیا، جسے بعد ازاں ایف آئی آر میں شامل کیا گیا۔

ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم پشاور ہائی کورٹ نے قتل کے محرک کے ثبوت نہ ہونے پر سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا کہ dying declaration کے لیے ضروری نہیں کہ بیان دینے والا موت کے بالکل قریب ہو، اگر وہ ہوش و حواس میں ہو تو اس کا بیان مکمل قانونی حیثیت رکھتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ڈاکٹر کی گواہی سے ثابت ہے کہ مقتول بیان دینے کے قابل تھا، جب کہ dying declaration اور عینی گواہ کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب بینک کے سسٹم پر سائبر حملہ، 97 ارب روپے کے مشتبہ فراڈ کا انکشاف

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ملزم واردات کے بعد آٹھ سال تک مفرور رہا، جو اس کے جرم کی جانب ایک مضبوط قرینہ ہے۔

 تاہم چونکہ استغاثہ قتل کا محرک ثابت نہیں کر سکا، اس لیے یہ ایک تخفیفی پہلو ہے، جس کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنا درست تھا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ مکمل طور پر درست ہے اور اس میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں، چنانچہ ملزم اور مقتول کے ورثاء دونوں کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ اس فیصلے میں جسٹس مسرت ہلالی نے اختلافی نوٹ تحریر کیا۔