اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت سپیشل افراد پر صرف توجہ نہیں دے رہی بلکہ ان پر سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید اور بااختیار شہری بن سکیں۔

مریم نواز نے سپیشل طلبہ کے لیے ہمت کارڈ کے اجرا، پنجاب بھر کے سپیشل ایجوکیشن مراکز کی ازسرنو تعمیر، ہر ضلع میں سنٹر آف ایکسی لینس کا قیام اور تمام مراکز کے لیے ٹرانسپورٹ کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔ آٹسٹک بچوں کے لیے پہلے سرکاری آٹزم سکول کا قیام کسی نعمت سے کم نہیں اور یہ پراجیکٹ ملک بھر کے لیے ایک مثال ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ نے تقریب میں سپیشل بچوں، ان کے والدین، اساتذہ اور سپیشل ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپیشل بچے خصوصی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں، جن میں کئی خوبیاں عام انسانوں میں نہیں ہوتیں۔

مریم نواز نے بتایا کہ وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد انہوں نے صوبے بھر میں سپیشل ایجوکیشن سینٹرز کے قیام کا وعدہ کیا تھا اور ڈیڑھ سال میں صوبائی معاون خصوصی ثانیہ عاشق کی قیادت میں اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا گیا۔ پنجاب کے 28 اضلاع میں سنٹر آف ایکسی لینس قائم ہو چکے ہیں جبکہ باقی اضلاع میں بھی جلد کام مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے بھر کے 313 اداروں کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جارہا ہے، جہاں ہزاروں بچے تعلیم، صحت، بحالی اور تکنیکی مہارتیں حاصل کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ سکول میل پروگرام کے تحت 45 ہزار سے زائد بچوں کو غذائیت سے بھرپور راشن فراہم کیا جارہا ہے اور انہوں نے خود دودھ اور بسکٹ کھا کر معیار کی جانچ کی۔ پروگرام کے آغاز کے بعد سپیشل بچوں کی انرولمنٹ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اسپیشل بچوں کی حفاظت کے حوالے سے ان کا کہنا کہ سکولوں اور بسوں میں سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا گیا ہے، جب کہ 60 جدید بسیں بھی فراہم کردی گئی ہیں، جن میں ہراسانی کی روک تھام کے موثر انتظامات موجود ہیں۔

مریم نواز نے یہ بھی بتایا کہ صوبے بھر میں 40 ہزار سے زائد بچوں کی ہیلتھ اسکریننگ جبکہ 30 ہزار سے زیادہ بچوں کا علاج کیا جا چکا ہے اور کئی بچوں کو دوبارہ سماعت کے قابل بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کو ضرورت کے مطابق ویل چیئر، ہیرنگ ایڈز اور معاون آلات بھی فراہم کیے جارہے ہیں، جب کہ سنٹر آف ایکسی لینس میں فزیوتھراپی، سپیچ تھراپی، آئی ٹی ٹریننگ، لیبز اور آڈیو ویڈیو رومز قائم کیے جا رہے ہیں۔ سنٹر آف ایکسی لینس کے 8 بچے آئی ٹی سکلز کی بدولت پی آئی ٹی بی میں ملازمت حاصل کر چکے ہیں۔

مریم نواز شریف نے گزشتہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وقت گالی گلوچ اور انتشار میں ضائع کیا گیا، جب کہ انہوں نے کم وقت میں متعدد بڑے منصوبے شروع کیے ہیں، مگر اب بھی انہیں لگتا ہے کہ یہ کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرو بسوں میں سپیشل افراد کے لیے آٹومیٹک ریمپ اور ویل چیئر کی سہولت موجود ہے۔ پاکستان کا پہلا سرکاری سکول آف آٹزم جلد افتتاح کے لیے تیار ہے، جس کے لیے ہزاروں درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور لاہور میں بننے والا یہ ادارہ اپنی نوعیت کا دنیا بھر میں منفرد منصوبہ ہے۔

وزیرِاعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وہ ایسا پنجاب چاہتی ہیں جہاں حکومت خود گھر کے دروازے پر دستک دے کر سپیشل بچوں کو سکول لے کر جائے، کیونکہ سپیشل بچے کبھی بھی اپنے والدین پر بوجھ نہیں ہوتے، بلکہ گھر میں رحمت اور برکت کا باعث بنتے ہیں۔