تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب پولیس اصلاحات سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں امن و امان کی صورتحال اور اصلاحاتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں تھانوں کے باہر پولیس سے متعلق شکایات کے فوری ازالے کے لیے پینک بٹن نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ انوسٹی گیشن کے عمل کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ اصولی طور پر لازمی قرار دینے پر بھی اتفاق ہوا۔

اجلاس میں  پنجاب بھر میں ایف آئی آر کی آن لائن ٹریکنگ سسٹم متعارف کرانے اور کاغذات و شناختی کارڈ کی گمشدگی کی ایف آئی آر آن لائن درج کرنے کا نظام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر شہری کو عزت کے ساتھ ’سر‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے اور پولیس سے متعلق چھوٹی شکایات کو دو سے تین گھنٹوں کے اندر حل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہر پولیس اسٹیشن کے کم از کم 10 اہلکاروں کو باڈی کیم فراہم کیے جائیں گے، جب کہ صوبہ بھر میں 14 ہزار باڈی کیمز اور 700 پینک بٹن نصب کیے جائیں گے، ساتھ ہی وزیراعلیٰ نے باڈی کیمز کے لیے فنڈز کی منظوری بھی دے دی۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب میں مجموعی طور پر جرائم میں 48 فیصد اور بڑے جرائم میں 80 فیصد تک کمی نوٹ کی گئی ہے۔ 80 منٹ کے رسپانس ٹائم سے منفی فیڈ بیک میں کمی آئی ہے، جب کہ ساہیوال اور گجرات جیسے شہروں میں بڑے جرائم کی کالز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پراپرٹی کے جھگڑوں میں کمی سے بھی جرائم کی شرح کم ہوئی ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب میں ہر سال ایک کروڑ 68 لاکھ افراد تھانوں کا رخ کرتے ہیں جن میں سے 68 فیصد پولیس خدمت مراکز کی سروسز کے لیے آتے ہیں۔ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر سے مجرم فائدہ اٹھاتا ہے، اس لیے اندراج کے عمل کو تیز اور شفاف بنانے پر زور دیا گیا۔ بتایا گیا کہ ایف آئی آر درج کرتے وقت پولیس صرف پانچ سوالات کر سکے گی۔

وزیراعلیٰ نے آئی جی اور دیگر پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود عوامی فیڈ بیک لینے کے لیے فون کالز کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں اور پولیس میں سزاؤں کے نظام کو بھی متوازن بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بڑے جرم پر چھوٹی اور چھوٹی غلطی پر بڑی سزا کا تاثر ختم ہو۔

ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کو لین میں چلانے کا پابند بنانے کی ہدایت کی گئی۔ ضلعی انتظامیہ، سی اینڈ ڈبلیو اور ٹیپا کو لین مارکنگ یقینی بنانے کا حکم دیا گیا جبکہ شہریوں کو سڑک عبور کرنے کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے ٹریفک پولیس ون ایپ اور سیف سٹی مانیٹرنگ ایپ کا باقاعدہ آغاز بھی کیا۔

پنجاب کی وزیراعلیٰ نے کہا کہ پولیس سے صرف مجرموں کو ڈرنا چاہیے، عوام کو نہیں۔ عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ مشکل وقت میں پولیس ان کی مدد کرے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ پولیس کے لیے ضابطہ اخلاق اور باقاعدہ تربیت ناگزیر ہے۔

خواتین سے متعلق شکایات پر خصوصی ہدایات دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے کوئی بیٹی اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرے، یہ برداشت نہیں۔

انہوں نے حکم دیا کہ اگر خواتین تھانے نہیں آ سکتیں تو موبائل پولیس اسٹیشن ان کے پاس جا کر شکایات کا ازالہ کریں اور شکایت کنندہ خاتون کی تذلیل کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی اور مدد کی جائے۔