پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مشعال ملک کا کہنا تھا کہ حکومت اور کشمیر کمیٹی میں کئی مرتبہ اپنا مؤقف پیش کرنے کے باوجود اصل طاقت عوام کی ہے اور کوئی بڑی سیاسی جماعت یا تنظیم ان کے ساتھ نہیں، اس لیے عام عوام ہی سب سے بڑا سہارا ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ لاہور کے بازاروں سے لے کر پاکستان کے ہر صوبے اور آزاد کشمیر تک دکان دکان، گلی گلی جا کر لوگوں سے اپیل کریں گی کہ یاسین کی جان بچانے کے لیے ہاتھ جوڑ کر ساتھ دیں۔
مشعال ملک کا کہنا تھا کہ 28 جنوری کو ہونے والی سماعت انتہائی خطرناک ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں، دعا اور حمایت جاری رکھیں تاکہ دنیا تک پیغام پہنچ سکے کہ پاکستانی عوام یاسین ملک اور کشمیری حریت رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مشعال ملک نے زور دیا کہ یہ مہم بڑے جلسے یا تنظیمی طاقت کے بغیر صرف عوام کی طاقت پر مبنی ہے اور ہر شخص جو عام شہری ہے، اس تحریک کا حصہ بن کر کشمیری کاز کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے حمایت بھیجی جاتی ہے مگر اصل رابطہ عوام کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس لیے وہ خود عوام کے پاس آ کر ہر جگہ لوگوں کو آگاہ اور شامل کریں گی۔







