منگل کو ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ صدر مملکت پیر کی شام ابوظبی پہنچے، ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔
بیان کے مطابق دورے کے دوران تجارتی، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
صدر آصف علی زرداری کی اماراتی حکام سے ملاقاتوں میں علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی حالیہ پیشرفت پر تبادلۂ خیال بھی متوقع ہے۔
صدر کی روانگی کے موقع پر وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ دونوں ممالک مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں باہمی سمت کا تعین بھی کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کے بعد صدر پاکستان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ دورہ اس عزم کا اظہار بھی ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مضبوط دوستی کو باہمی مفید شراکت داری میں تبدیل کیا جائے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان قریبی اقتصادی تعلقات موجود ہیں اور ابوظبی نے مشکل معاشی حالات میں اسلام آباد کی معاونت بھی کی ہے۔
اس تعاون میں پاکستان کے مرکزی بینک میں ڈیپازٹس شامل ہیں جن سے ادائیگیوں کے توازن کے بحران کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا۔
متحدہ عرب امارات، چین اور امریکہ کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور جغرافیائی قربت کے باعث اسے برآمدات کے لیے موزوں منڈی سمجھا جاتا ہے۔
قربت کی وجہ سے تجارتی لین دین میں سہولت رہتی ہے اور نقل و حمل کے اخراجات بھی نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
دونوں ممالک حالیہ مہینوں میں مزید قریب آئے ہیں اور اربوں ڈالر کے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی تارکین وطن مقیم ہیں جو سمندر پار پاکستانیوں کی بڑی کمیونٹیز میں شامل ہیں۔
یہ تارکین وطن سالانہ اربوں ڈالر کی ترسیلات وطن بھیجتے ہیں جو پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
تجارتی اور افرادی قوت کے روابط کے ساتھ ساتھ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون بھی مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
اس تعاون میں فوجی تربیت، مشترکہ مشقیں، انسداد دہشت گردی اور علاقائی سلامتی سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔







