اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے اس موقع پر یہ شکوہ بھی کیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں کی تقاریر کو مکمل طور پر نشر نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسی پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ عوام ایوان کی کارروائی سے مکمل طور پر آگاہ رہ سکیں۔
ان کے مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ایوان کی کارروائی پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں اور تمام تقاریر قواعد و ضوابط کے مطابق نشر کی جاتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نشریات کے حوالے سے کوئی امتیازی پالیسی موجود نہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اس معاملے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اور دیگر اپوزیشن اراکین کی تقاریر بعض اوقات مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچ پاتیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی تقریر کے بعض حصوں پر اعتراض ہو تو اسے بعد میں مناسب انداز میں نشر کیا جا سکتا ہے، تاہم تقاریر کو مکمل طور پر روکنا مناسب نہیں۔
اسپیکر ایاز صادق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی سلامتی سے متعلق معاملات کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے اور بعض اوقات حساس نوعیت کے معاملات پر احتیاط برتی جاتی ہے۔
اس پر بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ اپوزیشن کی جانب سے قومی سلامتی کے خلاف کوئی بات نہیں کی جاتی۔
مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے انڈیا اور افغانستان ہیں، خواجہ آصف
واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں ہونے والی اس بحث نے ایک بار پھر پارلیمانی شفافیت، اظہارِ رائے کی آزادی اور ریاستی اداروں کے احترام کے درمیان توازن کے سوال کو اجاگر کر دیا ہے۔
سیاسی اور پارلیمانی حلقوں کے مطابق جمہوری نظام میں مختلف آراء کا اظہار بنیادی حق ہے، تاہم ریاستی مفادات اور حساس قومی معاملات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔






