پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف، چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور عظیم قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 27 فروری 2019 کو شروع کیا گیا آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے جواب میں ایک بروقت، مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی تھی۔ اس آپریشن کے ذریعے پاکستان نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ وہ اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی جوابی کارروائی، متعدد افغان پوسٹیں تباہ، سفید جھنڈے لہرا دیے گئے

عسکری قیادت نے کہا کہ اس کارروائی نے مسلح افواج کی اعلیٰ تربیت، مربوط حکمتِ عملی اور ہمہ وقت تیاری کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس کامیاب اقدام کے نتیجے میں نہ صرف مزید کشیدگی کا راستہ روکا گیا بلکہ خطے میں تزویراتی توازن بھی بحال ہوا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ وطنِ عزیز کے دفاع کے لیے افواجِ پاکستان کا عزم غیرمتزلزل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ایڈمرل نوید اشرف نے اس موقع پر بحری افواج کی تیاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سمندری سرحدوں کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے اور پاک بحریہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا کہ پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران پیشہ ورانہ مہارت اور جدید حربی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، جو آئندہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فضائی دفاعی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بناتی ہے۔ عسکری قیادت نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی امن، علاقائی استحکام اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے گا۔

تقریب کے اختتام پر شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔