کراچی میں ایران کے 47ویں یومِ انقلاب اور قومی دن کے سلسلے میں ایرانی قونصل خانے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ایرانی انقلاب عوامی امنگوں کا مظہر تھا، جس نے ایران کو عالمی منظرنامے پر ایک مؤثر اور باوقار مقام دلایا،ایران نے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی اور اپنی خودمختاری کو مضبوط بنایا۔

تقریب میں سفارتی حکام، سیاسی و سماجی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاک ایران تعلقات، خطے کی صورتحال اور مسلم ممالک کے باہمی روابط پر بھی گفتگو کی گئی۔

انہوں  نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں، جنہیں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانا وقت کا تقاضا ہے۔ اس مقصد کے لیے بینکاری نظام کو مؤثر بنانے اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی، سرحدی تجارت، ٹرانزٹ سہولتوں اور مشترکہ صنعتی منصوبوں کے ذریعے معاشی روابط کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے،خطے میں استحکام اور خوشحالی کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

 انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اُمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف اتحاد اور اجتماعی بصیرت سے ہی ممکن ہے، اسلامی ممالک کو سفارتی، معاشی اور دفاعی سطح پر باہمی تعاون کو فروغ دے کر ایک مضبوط بلاک کی صورت اختیار کرنی چاہیے۔

گورنر سندھ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات آنے والے دنوں میں مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ممالک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے مشترکہ کردار ادا کرتے رہیں گے۔