کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو بلدیاتی انتخابات میں بھرپور عوامی حمایت حاصل ہوئی تھی، تاہم اس کے مینڈیٹ پر قبضہ کر لیا گیا۔ اگر میئر جماعت اسلامی کا ہوتا تو شہری مسائل میں واضح بہتری نظر آتی۔
اپنے خطاب میں حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ کراچی میں کرپشن عروج پر ہے اور ماسٹر پلان سمیت متعدد اہم معاملات فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 55 ارب روپے کے بجٹ کے باوجود شہری مسائل جوں کے توں ہیں، حالانکہ اگر میئر جماعت اسلامی کا ہوتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیوریج کا نظام جماعت اسلامی کی ذمہ داری نہیں، اس کے باوجود وہ اپنے حصے کا کام انجام دے رہی ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی کی بقا دراصل پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے، لہٰذا عوام کو میدانِ عمل میں نکل کر ان کا ساتھ دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی صوبے کے قیام کی بات ہوتی ہے تو انتشار پیدا کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے لیے میگا سٹی گورنمنٹ قائم کی جائے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ عوام دشمن جماعت ہے جس نے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ نظام کی تبدیلی کے لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔






