سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے یہ مطالبات پہلے بھی تھے، اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے سامنے سات نکاتی ڈرافٹ پیش کیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ہمارے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سات مطالبات کیا ہیں؟
وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات:
ڈرافٹ کے مطابق وزیراعظم اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں قائدینِ حزب اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں ہونی چاہئیں، جن میں اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے۔ مطالبات میں دو ماہ کے اندر ان معاملات پر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت کی شرط بھی شامل ہے۔
مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی:
دوسرے مطالبے میں وزیراعظم سے حکومت، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور ایک ماہ کے اندر اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قانونی و طبی حقوق:
ڈرافٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جیل مینول، آئین اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کیے جائیں۔ جہاں قانون اجازت دے، وہاں ان کے ذاتی یا نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے اور مشوروں کو بھی مدنظر رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت:
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو جیل قوانین کے مطابق اہل خانہ، نامزد وکلا اور مجاز رفقا سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ ڈرافٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ملاقاتوں کی سہولت کو قانوناً ممنوع سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
قانونی درخواستوں پر کارروائی:
ڈرافٹ میں عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، بزرگ اور بیمار قیدیوں سمیت زیرِ حراست افراد کی سزاؤں کے خلاف درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق 10 دن کے اندر کارروائی شروع یا مکمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
پی ٹی آئی نے خواتین سیاسی قیدیوں، بالخصوص یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی، کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جلد رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی پر وفاق اور صوبے میں مشاورت
چھٹے مطالبے میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل مشاورت پر زور دیا گیا ہے۔
ڈرافٹ کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر اجلاس منعقد کرکے امن و امان کے قیام کے لیے واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمت عملی مرتب کریں گے، جب کہ موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
یقین دہانی پر لانگ مارچ منسوخ کرنے کی شرط
ساتویں مطالبے کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پی ٹی آئی موجودہ لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم ڈرافٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتی ہے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرتی ہے تو پی ٹی آئی آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کا حق محفوظ رکھے گی۔
واضح رہے کہ یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد فریقین کے درمیان بعض اہم معاملات پر اختلافات اور ڈیڈلاک کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔







