درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی کی گئی ہے اور اس سے قبل کینٹ میں بھی بوہڑ کا ایک درخت کاٹا گیا تھا۔

 درخواست میں کہا گیا کہ ہر بار درخت کٹنے کے بعد محض معذرت کر لی جاتی ہے، جب کہ عدالت سے استدعا ہے کہ ناصر باغ میں درخت کاٹنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جائے۔ لاہور ہائی کورٹ نے مزید کارروائی پانچ دسمبر تک ملتوی کر دی۔

گزشتہ سماعت میں عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ سمجھ نہیں آتا کہ بار بار ہدایت دینے کے باوجود درخت کیسے کاٹ دیے جاتے ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے رکن نے عدالت کو بتایا تھا کہ ناصر باغ میں درخت کاٹے جا رہے ہیں۔

دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ درخت نہیں کاٹے جائیں گے، لیکن باغ کے اطراف درختوں کی کٹائی جاری ہے، یہ کیا صورتحال ہے؟

 اس موقع پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وکیل نے بتایا کہ سختی سے ہدایت جاری کی گئی ہے کہ کوئی درخت نہ کاٹا جائے، تاہم عدالت نے کہا کہ فراہم کردہ تصاویر میں صاف نظر آ رہا ہے کہ درخت کاٹے گئے ہیں، جب کہ ناصر باغ ایک تاریخی مقام ہے۔

ایل ڈی اے کے وکیل نے وضاحت دی کہ درخت نہیں کاٹے گئے بلکہ اُنہیں منتقل کیا گیا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ حکومت سات سال پر محیط عدالتی احکامات کو تسلیم کر رہی ہے۔

 عدالت نے مزید کہا کہ اسکول بسوں کے حوالے سے بھی احکامات موجود تھے، مگر حکومت اس جانب پیش رفت نہیں کر رہی۔

عدالت نے مزید ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ راستے میں دیکھا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کی بسیں دھواں چھوڑ رہی ہیں، ایسی بسوں کی انسپکشن کی جائے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو بند کیا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے ممبر جوڈیشل کمیشن کو ناصر باغ کا دورہ کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔