اجلاس میں کوٹلی ستیاں میں پنجاب کے پہلے اسکائی گلاس برج منصوبے کی اصولی منظوری دی گئی، جسے حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔ شرکا نے مری میں لینڈ سلائیڈنگ کے مسائل پر بھی غور کیا اور چٹا موڑ، دریا گلی، بانسرہ گلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں بحالی کے لیے عالمی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس کے دوران مری کے نواحی علاقوں شوالا، سوزو اور برروری میں تین نئے ہاسپٹیلٹی زون قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جہاں نجی شعبے کے تعاون سے فائیو اسٹار معیار کے ہوٹل تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مری گلاس ٹرین منصوبے پر ایک ماہ کے اندر تعمیراتی کام شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا جبکہ مختلف سڑکوں کی توسیع کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں تفریحی سہولیات بڑھانے کے لیے انگوری روڈ پارک، ایم آئی ٹی پارک اور اریاڑی پارک سمیت نئے پارکس کے قیام کا جائزہ لیا گیا، جبکہ بانسرہ گلی میں زولوجیکل گارڈن، ایکو زون اور دیگر سہولیات کی منظوری بھی دی گئی۔ مزید برآں چیوڑا ہل پر جدید گلیمپنگ پوڈ ولیج اور پیراگلائیڈنگ کلب کے قیام کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دریائے جہلم سے بلک واٹر سپلائی اسکیم کی فزیبلٹی رپورٹ رواں ماہ کے آخر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ مری اور کوٹلی ستیاں میں رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کی تنصیب پر بریفنگ بھی دی گئی۔







