لاہور میں منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت فارم 47 کی بنیاد پر کھڑی ہے، اس لیے نواز شریف کو حقائق پر مبنی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر واقعی نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ سے اختلافات تھے تو پھر اس بار وہ اقتدار میں کیوں آئے اور اسی کے ساتھ مل کر جمہوریت پر حملہ کیوں کیا؟
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ نون لیگ کی قیادت جب ناراض ہوتی ہے تو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرے لگاتی ہے اور جب مفاہمت ہوتی ہے تو اسی کے حق میں آوازیں بلند کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو بتانا ہوگا کہ ووٹ کو کتنی عزت ملی، جب کہ جماعت اسلامی کے تین روزہ اجتماع عام کو انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدل دو نظام تحریک کے سلسلے میں بڑے شہروں کے امرا کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے پنجاب میں منظور کیے گئے نئے بلدیاتی قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس کے خلاف عدالتوں اور سڑکوں دونوں محاذوں پر جائے گی۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کبھی آر ٹی ایس کے نام پر، کبھی فارم 47 کے ذریعے حکومتیں بنائی جاتی ہیں۔ خاندانی سیاسی جماعتیں اپنے ہی کارکنوں سے خوفزدہ ہیں، اسی لیے عوام دشمن قوانین منظور ہوتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی ضروری ہے اور ستائیسویں آئینی ترمیم آئین کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہے، جسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
خارجہ پالیسی پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آزادانہ خارجہ پالیسی اپنانا ہوگی۔امریکی دباؤ میں آکر کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ٹرمپ کی چاپلوسی بھی کسی فائدے کی نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ ملک کی 88 فیصد آبادی اعلیٰ تعلیم سے محروم ہے، جب کہ تین کروڑ بچے پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے اسکولوں سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں نیچے جا رہی ہیں اور تعلیم کا نظام چند طبقات تک محدود ہو چکا ہے۔
سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں بدترین بدعنوانی کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے، جب کہ صوبے میں ڈاکوؤں کا راج برقرار ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے پانی اور بجلی کے سنگین بحران کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جماعت اسلامی وہاں بھی اپنی تحریک آگے بڑھا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی امن، شہری سہولیات، بلدیاتی حقوق اور آئینی حکمرانی کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور عوامی مسائل پر حکومت کو مزید استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں کے گھیراؤ سے لے کر بڑے دھرنوں تک، ہر جمہوری راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ بدل دو نظام تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔






