مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں کے لیے پارٹی امیدواروں کی حتمی منظوری دے دی۔پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق مخصوص نشستوں پر امیدواروں کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا۔ نواز شریف نے سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے دستخطوں سے پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری دی۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے مریم زمانی، مریم ادریس، سحرش قمر اور رفعت عابد کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے مخصوص نشست پر عبدالرحمٰن کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے، جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے افتخار گیلانی کو امیدوار مقرر کیا گیا ہے۔
علما و مشائخ کی مخصوص نشست کے لیے پیر مظہر سعید کو مسلم لیگ (ن) کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔
پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کے نام پارلیمانی بورڈ کی سفارشات کے بعد پارٹی قیادت کے سامنے پیش کیے گئے تھے، جنہیں نواز شریف نے حتمی منظوری دے دی۔
نواز شریف کی منظوری کے بعد امیدواروں کے حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کے بعد مخصوص نشستوں کے لیے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی نامزدگی کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کا اعلان آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مخصوص نشستیں خواتین سمیت مختلف طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے قانون ساز اسمبلی کا حصہ ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق امیدواروں کی نامزدگی میں پارلیمانی بورڈ کی سفارشات اور پارٹی کی تنظیمی حکمت عملی کو مدنظر رکھا گیا۔ قیادت کی جانب سے امیدواروں کو پارٹی کی پالیسی اور پارلیمانی کردار کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایت بھی متوقع ہے۔
مخصوص نشستوں کے لیے امیدواروں کی منظوری کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخابی اور پارلیمانی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔ پارٹی کی قیادت آزاد کشمیر میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے پارلیمانی سطح پر بھی سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ خواتین، اوورسیز پاکستانیوں، ٹیکنوکریٹس اور علما و مشائخ کے لیے مخصوص نشستیں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مختلف طبقات کی نمائندگی کا ذریعہ ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ان نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کے نام سامنے لاتے ہوئے پارٹی پوزیشن واضح کردی ہے۔







