تفصیلات کے مطابق ظاہر جعفر کے ساتھ شریک ملزمان محمد جان اور محمد افتخار کو رہا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ شریک ملزمان کی رہائی اس لیے ممکن ہوئی کیونکہ وہ پہلے ہی کافی مدت قید میں گزار چکے ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس علی باقر نجفی نے سات صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ جعفر کے خلاف تمام ثبوت سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ جسٹس نجفی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس سانحے سے سبق حاصل کریں۔
فیصلے میں عدالت نے خاموش گواہ تھیوری پر بھی زور دیا، جس کے تحت ویڈیو یا تصاویر جیسے شواہد کو عینی شاہد کے بغیر بھی قابل قبول اور خود کفیل ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ مستند فوٹیج خود کفیل ثبوت کے طور پر کام کر سکتی ہے اور ریکارڈ شدہ ویڈیو یا تصاویر کو بطور گواہی پیش کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر F-7/4 میں ظاہر جعفر کی رہائش گاہ سے اس کے سر کو جسم سے الگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ اسی دن ایف آئی آر درج کی گئی اور ظاہر جعفر کو موقع واردات سے گرفتار کیا گیا۔
فروری 2022 میں، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جعفر کو نور مقدم کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے اسے 25 سال کی سخت قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ موت کی سزا سنائی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 14 مارچ 2023 کو جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی اور عصمت دری کے جرم میں اضافی سزائے موت سنائی۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد قتل کی سزا برقرار ہے، عصمت دری اور اغوا کے معاملات میں نرمی کی گئی، جب کہ شریک ملزمان کی رہائی کی منظوری دی گئی ہے۔







