ان کا کہنا تھا کہ وراثت کی تقسیم کے معاملے میں بیٹیوں کو ان کا شرعی حق دینے سے گریز کیا جاتا ہے، جبکہ اسلامی نظام ہر فرد کو اس کا جائز حصہ فراہم کرتا ہے۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے سرکاری طیارہ موجود ہونے کے باوجود گیارہ ارب روپے مالیت کا نیا لگژری جہاز خریدا، جو عوامی وسائل کے غیر ضروری استعمال کی مثال ہے۔ ان کے بقول حکمران طبقے کی شاہ خرچیاں جاری ہیں جبکہ عوام مہنگائی اور غربت کے دباؤ میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غربت میں 31 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں بھی طبقاتی تقسیم گہری ہو چکی ہے اور معیاری تعلیم تک رسائی عام شہری کے بچوں کے لیے مشکل بنائی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور زرعی معیشت بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام سے بھاری بجلی بلوں کی صورت میں وصول کی گئی رقم سے آئی پی پیز کو سالانہ تقریباً دو ہزار ارب روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے پنجاب کے بلدیاتی ایکٹ کو عوام کے مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط مقامی حکومتوں کے بغیر حقیقی قیادت ابھر کر سامنے نہیں آ سکتی۔ بنگلہ دیش کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں جماعت اسلامی کو غدار قرار دے کر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باوجود پارٹی نے پونے تین کروڑ ووٹ حاصل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک رہنما کی گرفتاری سے جماعت کمزور نہیں ہوتی بلکہ مزید مستحکم ہوتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ "بنو قابل پروگرام" کے ذریعے بچوں کو بلا معاوضہ تعلیم فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو بااختیار اور ہنرمند بنایا جا سکے۔ انہوں نے کارکنان اور عوام پر زور دیا کہ وہ نظام میں تبدیلی کے لیے منظم اور مؤثر جدوجہد کی تیاری کریں، کیونکہ جماعت اسلامی ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کے لیے سرگرم ہے۔