حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی آخری حد تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ پاکستان کی جماعتوں میں نظم و ضبط کا بحران ہے اور فلسطین میں انسانیت کے خلاف جاری ظلم و ستم کے خلاف وقت آگیا ہے کہ سب متحد ہو کر آواز بلند کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نظریہ پاکستان سے نفرت کرنے والا جماعت اسلامی کا نہیں ہو سکتا، ہم تقسیم کو قبول نہیں کریں گے اور سب کو سینے سے لگائیں گے۔ نظم و ضبط کے بغیر تحریکیں ہواؤں میں بکھر جاتی ہیں اور وقتی مقبولیت انسان کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیتی ہے۔ طاقت اجتماعیت میں ہے اس لیے ہمیں اجتماعیت کے ساتھ جڑ کر کام کرنا ہوگا۔
اجتماع کے دوران نیشنل یوتھ ایکسیلینس ایوارڈز کی خصوصی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ایوارڈ شو کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی اور اُن باصلاحیت افراد کو سامنے لانا تھا جنہوں نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ تقریب میں ملک بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی اور مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔
واضع رہے کہ معروف سوشل میڈیا کانٹینٹ کریٹرز طلحہ احمد اور محمد شیراز کو ان کی تخلیقی صلاحیت، مثبت اندازِ بیان اور معاشرے میں تعمیری پیغام عام کرنے پر خصوصی یوتھ ایکسیلینس ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اسی طرح اسلام 360 ایپ کے بانی زاہد حسین چھیپا، عالمی شہرت یافتہ ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ اور کوہ پیما شہروز کاشف کو بھی ایوارڈ دیا گیا۔






