سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اجتماع عام کے دوسرے روز  جہانِ نو ہورہا ہے پیدا  کے عنوان سے آخری سیشن میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں حافظ نعیم الرحمن اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے نیل کے ساحل سے لے کر تابِ خاکِ کاشغر تک، علامہ اقبال کے خواب کو عملی شکل دیتے ہوئے امت کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ آج کے اس عظیم اجتماع میں امریکا اور اس کے حواریوں کے خلاف کھڑے ہونے والے باغی جمع ہیں جو امت مسلمہ کو جوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ایک ایسی دنیا چاہتی ہے جہاں حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہو اور نظام زندگی قرآن و سنت کے مطابق قائم کیا جائے۔

اپنے خطاب میں سابق امیر نے موجودہ عالمی اور ملکی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایسی دنیا کا خواب دیکھتے ہیں جہاں قاتلوں کو نوبل پرائز کے لیے نامزد نہ کیا جائے، اور جہاں معاشرے پر کسی بھی طبقاتی تقسیم کا راج نہ ہو۔

واضع رہے کہ سراج الحق کا کہنا تھا کہ ایران اور افغانستان کے عوام نے قربانیاں دے کر شہنشاہیت کے دور کو ختم کیا اور پاکستان میں بھی ضرور وہ دن آئے گا جب جاگیرداروں، وڈیروں اور خانوں کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا۔ یہ اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ امت ایک نئی بیداری کی طرف بڑھ رہی ہے۔