اس حوالے سے اتوار کے روز وادی تیراہ میں آفریدی قبائل کا ایک جرگہ منعقد ہوا، جس میں ملک دین خیل، قمبر خیل، اکاخیل اور دیگر قبائل کے 24 سرکردہ قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے میں علاقے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، جاری عسکری کارروائیوں اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جرگے کے رکن ملک کمال الدین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین سے چار برسوں سے علاقے کے لوگ عملی طور پر یرغمال بنے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں سرگرم مختلف مسلح تنظیموں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران بے گناہ شہری بھی مارے جا رہے ہیں، جس سے مقامی آبادی شدید خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہے۔
ملک کمال الدین کا کہنا تھا کہ قبائلی عمائدین متعدد بار مطالبہ کر چکے ہیں کہ ان کے علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں اور مسلح سرگرمیاں بند کی جائیں، تاہم ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ کم از کم غیر اعلانیہ کرفیو اور گولہ باری کو روکا جائے، لیکن اس حوالے سے بھی کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ سے سکیورٹی ادارے مقامی افراد کو بار بار علاقہ خالی کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں، تاہم اب قبائلی عمائدین نے فیصلہ کیا ہے کہ علاقہ ضرور خالی کیا جائے گا، مگر اس کے لیے واضح شرائط عائد کی گئی ہیں۔
جرگے کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کے مطابق دو ماہ کے اندر مقامی افراد کی واپسی کی تحریری ضمانت دی جائے، وادی تیراہ میں کسی بھی قسم کی امن کمیٹی یا ویلج کمیٹی قائم نہ کی جائے، جب کہ علاقے میں امن و امان کی بحالی مکمل طور پر حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہو گی۔
شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ نقل مکانی کے دوران مقامی آبادی کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جائے، ہر متاثرہ خاندان کو پانچ لاکھ روپے نقد، جب کہ ایک لاکھ روپے ماہانہ امداد دی جائے اور آپریشن کے بعد اس بات کی یقینی ضمانت دی جائے کہ آئندہ علاقے میں کوئی فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل کے باہر پرامن احتجاج کی کال، قیادت و کارکنوں کو 16 دسمبر کو پہنچنے کی ہدایت
ملک کمال الدین کے مطابق اس وقت بھی وادی تیراہ کے بعض علاقوں میں دو دن کے لیے کرفیو نافذ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگ محدود تعداد میں اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں، تاہم مکمل اور باقاعدہ نقل مکانی اس وقت تک نہیں کی جائے گی جب تک جرگے کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے متعدد علاقوں، جن میں ٹانک، وادی تیراہ اور باجوڑ میں حالیہ عرصے کے دوران بدامنی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں پر مقامی آبادی کی جانب سے احتجاج بھی کیے گئے ہیں۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران خیبرپختونخوا میں شہری ہلاکتوں کے دو نمایاں واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جولائی میں وادی تیراہ میں ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی جاں بحق ہو گئی تھی، جس کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران فائرنگ سے پانچ افراد مارے گئے تھے۔
اسی طرح جولائی میں ہی ضلع باجوڑ میں عسکری کارروائیوں کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔






