ذرائع کے مطابق کالج میں داخل تین افغان خوارجیوں کو ایک مخصوص عمارت تک محدود کر دیا گیا ہے اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو مکمل گھیرے میں لے رکھا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس عمارت میں دہشتگرد موجود ہیں، وہ کیڈٹس کی رہائشی عمارتوں سے خاصے فاصلے پر ہے اور ابھی تک تمام کیڈٹس محفوظ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کالج میں آپریشن کی رفتار انتہائی احتیاط سے جاری ہے تاکہ کیڈٹس کی جانوں کو نقصان نہ پہنچے۔

ذرائع کے مطابق کالج کی حدود سے طلبہ کو نکالنے کا عمل بتدریج جاری ہے، تاہم اس وقت بھی تقریباً 535 افراد کالج کے اندر موجود ہیں۔ وانا کیڈٹ کالج میں موجود تین افغان خوارجیوں کے خلاف آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 نومبر کو افغان خوارجیوں نے بارود سے بھری گاڑی کالج کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی تھی، جس کے نتیجے میں مرکزی دروازہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکہ، 12 سے زائد افراد شہید، متعدد زخمی

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے جوانوں نے فوری اور بہادری سے کارروائی کرتے ہوئے دو خوارجیوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے، نہ پاکستان کی خوشحالی سے۔  سیکیورٹی فورسز کا آپریشن دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔