امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اپنے سوشل اکاؤنٹ ایکس پر کہا کہ اس فیصلے نے پھر ثابت کیا کہ ہمارا نظامِ انصاف طاقتور جاگیر داروں کے گھر کی لونڈی بن چکا ہے، "قوم کی بیٹی ام رباب چانڈیو کی تاریخی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، لیکن انصاف کے حصول کا سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔
ام رباب چانڈیو کے کیس پر پیپلزپارٹی کے وڈیرہ چیئرمین سے سوال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا ام رباب چانڈیو سندھ کی بیٹی نہیں ہے؟ اور طاقتور و جاگیردار ہی آپ کے چہیتے ہیں؟سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ام رباب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ انصاف کے حصول کی جدوجہد کو مضبوط حمایت حاصل ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ سماجی اور سیاسی انصاف کے لئے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے،اس امر پر زور دیا کہ طاقتور حلقوں کی سازشوں کے باوجود، عوام کو انسانی حقوق اور انصاف کے تحفظ کے لیے متحد رہنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ام رباب چانڈیو کی جدوجہد نے ثابت کیا ہے کہ ظلم و استبداد کے خلاف عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، اور معاشرتی انصاف کے حصول کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رہے گی۔
مزید پڑھیں: ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے مبینہ قاتل بری، مقدمہ کیا ہے؟
یہ کیس نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک میں انصاف کے نظام اور طاقتور طبقات کے اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے، اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پر تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
دوسری جا نب ام رباب چانڈی وکیل صلاح الدین پنہور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرداری نظام کے خلاف 3 لوگوں کا دن دہہاڑے قتل ہوا، کیس میں 3 گواہ اور میڈیکل شواہد موجود تھے، اتنے شواہد پر ہماری نظر میں سزا ہوسکتی تھی، فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے۔
خیال رہے آٹھ سال پرانے مقدمہ میں دو ارکان سندھ اسمبلی سمیت 8 ملزمان نامزد تھے، جن میں چار ملزمان جیل میں اور چار ضمانت پر ہیں۔
ام رباب چانڈیو کے اہلخانہ قتل کیس کے فیصلے کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے ہیں، ڈی ایس پیز سمیت 450 پولیس اہلکار سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
ام رباب چانڈیو کے گھر کے باہر بھی سکیورٹی کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس آنے جانے والے راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
یاد رہے کہ ماڈل کورٹ نے گزشتہ سماعت میں گواہان کے بیانات اور دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔







