درخواست پی ٹی آئی کے رہنما شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ علی امین گنڈاپور سے وزارتِ اعلیٰ کا استعفیٰ دباؤ کے تحت لیا گیا اور اس پورے عمل کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت موجود نہیں۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے سے علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کا اقدام آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے، اس لیے انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم کالعدم قرار دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ استعفیٰ ایک ایسے فرد کی ہدایات پر لیا گیا جو عدالت سے نااہل اور سزا یافتہ قرار دیا جا چکا ہے، لہٰذا اس بنیاد پر ہونے والی تمام آئینی اور انتظامی کارروائیاں بھی مشکوک حیثیت رکھتی ہیں۔

عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جگہ سہیل آفریدی کو بطور وزیراعلیٰ تعینات کرنے کا اعلامیہ بھی غیر قانونی قرار دیا جائے اور صوبے میں آئینی پوزیشن بحال کی جائے۔

درخواست گزار نے مزید مؤقف اپنایا کہ اگر غیر آئینی اقدامات کے ذریعے صوبائی حکومت میں تبدیلی کی اجازت دی گئی تو یہ مستقبل میں جمہوری نظام اور عوامی مینڈیٹ کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔

دوسری جانب علی امین گنڈاپور نے بھی عدالت میں دائر درخواست سے متعلق اپنا ردعمل جاری کردیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے قائد عمران خان کی ہدایات پر وزارتِ اعلیٰ سے استعفیٰ دیا اور اس حوالے سے تمام آئینی تقاضے پورے کیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست یا کسی قانونی کارروائی سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ اس عمل میں شامل ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر استعفے کی نقل بھی شیئر کی اور کہا کہ انہوں نے پارٹی نظم و ضبط اور قیادت کے فیصلے کے مطابق عمل کیا۔

واضح رہے کہ اس درخواست کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے، جبکہ آئینی عدالت میں اس معاملے کی سماعت آئندہ دنوں میں اہم سیاسی اور قانونی موڑ اختیار کرسکتی ہے۔