بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر جبکہ خدمات کے شعبے کی برآمدات کا ہدف 11.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح مصنوعات کی درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر اور خدمات کے شعبے میں درآمدات کا ہدف 13.8 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کا ہدف 42.4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت انفراسٹرکچر، سماجی شعبے، گورننس اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات کیے جائیں گے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی ترقیاتی پروگراموں اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی بجٹ کو شامل کرنے کے بعد ملک کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3 ہزار 675 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں کراچی-کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم اور داسو ڈیم کے لیے 21، 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ڈیجیٹل گورننس اور سروسز کے شعبے میں مختلف اقدامات کے لیے 30 ارب روپے جبکہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جب کہ 23 ہزار 775 گرین جابز پیدا کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں سرکاری سرمایہ کاری کے لیے 151 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا دائرہ کار بڑھا کر ایک کروڑ 20 لاکھ مستحق افراد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔







