جب کہ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے بجٹ کو "فارم 47 کا بجٹ" قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور ایوان میں "عوام دشمن بجٹ نامنظور" کے نعرے لگائے۔

 احتجاج کے دوران بعض اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔

اجلاس میں احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں داخل ہوئے۔

 اپوزیشن ارکان کی جانب سے وزیراعظم کے سامنے "عمران خان کو رہا کرو" اور عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے حکومت کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا۔

اپوزیشن رکن شاہد خٹک بجٹ تقریر کی پرچیاں بنا کر ہوا میں اڑاتے رہے۔

تاہم آغاز میں اجلاس میں بجٹ تقریر سے قبل تحریک انصاف کے ارکان مختلف پوسٹرز کے ساتھ  قومی اسمبلی میں داخل ہوئے جن پر عمران خان کی رہائی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافے کے مطالبات درج تھے۔

قومی اسمبلی کے ایوان میں وقفے وقفے سے شدید نعرے بازی جارہی ۔

دوسری جانب حکومتی ارکان نے بجٹ کو ملکی معیشت کی بہتری اور عوامی فلاح کے لیے اہم قرار دیا، تاہم اپوزیشن نے بجٹ کو عوامی توقعات کے برعکس قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث اور سیاسی ہنگامہ آرائی کے باعث اجلاس کا ماحول تناو اختیار کر چکا ہے۔

اس سے پہلے  پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ بتایا گیا تھا کہ بلاول بھٹو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، تاہم بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے ارکان بھی بجٹ اجلاس میں شریک ہیں۔