اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ہرانے کے لیے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن کا گٹھ جوڑ تھا۔ بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کو تنبیہ کی تھی کہ ہمارے لیے ان حالات میں کشمیر کے انتخابات کتنے اہم ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ترجیح مسلم لیگ (ن) کے بجائے کشمیریوں کے مفاد کو دی جائے، مگر انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے مفادات کو ترجیح دی گئی۔ پیپلز پارٹی آخری مرحلے تک میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین میرے ساتھ موجود ہیں، جو کشمیر کے انتخابات کو بہت قریب سے دیکھتے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) کی پارٹی بن گیا۔ 2024ء کے انتخابات کی تاریخ دہرائی گئی۔ کہتے ہیں چوری اوپر سے سینہ زوری۔ آپ دھاندلی کریں اور مانیں بھی نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو بتائیں کہ ہم نے کیا کچھ دیکھا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ہمارا لہجہ مسلم لیگ (ن) والوں جیسا نہیں ہوگا، ہم متعلقہ فورمز پر دلیل کے ساتھ بات کریں گے۔ 27 جولائی کو چوہدری اظہر کی جانب سے اسٹمپنگ کی گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے کارکن وہاں دھاندلی کرتے رہے اور ہم شکایات کرتے رہے۔ ہم اس دن بھی الیکشن کمیشن کو آگاہ کرتے رہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ لگ رہا تھا آزاد کشمیر کے انتخابات میں الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) کی بی ٹیم ہے۔ ایک بار پھر 2024ء کے انتخابات دہرائے گئے۔ 2024ء میں فارم 47 کی حکومت تھی، جبکہ آزاد کشمیر میں فارم 47 پلس کی حکومت ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے روایات برقرار رکھتے ہوئے مثال قائم کی۔ وفاقی وزرا کی پریس کانفرنس دیکھی، انہیں کوئی پشیمانی نہیں تھی۔ وفاقی وزرا کے لہجے میں تکبر تھا، جو زیادہ دیر چلنے والا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچے بچے کو معلوم ہے کہ انتخابات کیسے ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کی آزاد کشمیر انتخابات میں کارروائیاں سب نے دیکھی ہیں۔ ہم بدتمیزی نہیں کرتے، ہم دلیل کے ذریعے اپنی بات متعلقہ فورمز تک پہنچائیں گے۔ میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بھی بیشتر شکایات الیکشن کمیشن کو دی گئیں، مگر الیکشن کمیشن نے انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کی شکایات پر کوئی نوٹس نہیں لیا۔
وزیرِ اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ ایل اے 9 نکیال میں پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس کو شہید کیا گیا۔ لیگی رہنما فاروق حیدر نے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کا کارکن ہے۔ پہلے ہمارے کارکن کا قتل کیا گیا، پھر بے حسی کی انتہا یہ کہ کسی کے کارکن کو اپنا کارکن بنا لیا۔ کل مظفر آباد ڈویژن میں بھی مذاق ہوا۔ ایل اے 27 میں موسم کا بہانہ بنا کر پولنگ ملتوی کی گئی، حالانکہ وہاں دھوپ تھی، موسم چیک کر لیں۔ ایل اے 27 سے متعلق الیکشن کمیشن نے غلط بیانی کی۔ اگر الیکشن کمشنر ٹی وی پر آ کر جھوٹ بول رہا ہے اور قوم کو گمراہ کر رہا ہے تو قانون میں اس کی کیا سزا ہے؟
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بہت سے پولنگ اسٹیشنوں پر سامان بھیج ہی نہیں سکا۔ کل ایل اے 31 میں صدر آزاد کشمیر پر مسلم لیگ (ن) کے "گُلّو بٹوں" نے حملہ کیا۔ آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو شکایات بھیجی گئیں، مگر ایک شخص بھی گرفتار نہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ جب ایل اے 31 میں خبر ملی کہ پنجاب پولیس اور ان کے لوگ ٹھپے لگا رہے ہیں تو ہمارے لوگ وہاں گئے، جہاں ان پر سیدھی فائرنگ کی گئی، جبکہ رانا ثنا اللہ ہمارے لوگوں پر فائرنگ کے واقعے کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کا تکبر اور غرور وہی ہے جو 2018ء میں پی ٹی آئی کا تھا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بیلٹ پیپر دو دن پہلے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو دے دیے گئے تھے۔ کشمیر میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے، مگر انتظامیہ وفاقی حکومت کے کنٹرول میں تھی۔ صدر آزاد کشمیر پر حملے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہو سکی۔ آپ اپنے صدر کو تحفظ بھی فراہم نہ کر سکے۔ رانا ثنا اللہ بتائیں کہ آپ لوگ انتظامیہ سے ملاقاتیں کیوں کر رہے تھے؟
وزیرِ اطلاعات سندھ کا کہنا تھا کہ 2024ء کے انتخابات کے بعد ہمیں معلوم تھا کہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے، اسی لیے ہم اس کا حصہ نہیں بنے۔ پیپلز پارٹی نے عہدوں کی سیاست نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کے پاس تمام عہدے آئینی ہیں، مگر ان کا کوئی اختیار نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔







