ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ضابطے کی کارروائی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو فوری طور پر احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ قانون کے مطابق پابندی کے اقدامات مکمل کیے جا سکیں۔

وفاقی کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کے لیے پیش کی گئی سمری کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ یہ پابندی انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی سیکشن 11B(1) کے تحت لگائی جائے گی۔

یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب پنجاب حکومت نے ایک ہفتہ قبل ٹی ایل پی پر پابندی کا ریفرنس وفاقی وزارت داخلہ کو بھیجا تھا۔

اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کی گئی سمری میں واضح کیا گیا کہ ٹی ایل پی پر نفرت انگیز تقاریر کرنے، فرقہ وارانہ انتہاپسندی اور تشدد میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں، جس کے نتیجے میں اسے پابندی کے دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے۔

سمری میں مزید کہا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان بین الاقوامی تعلقات کو خراب کرنے، ہجوم کے تشدد میں ملوث رہنے، نجی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور ہتھیار سازی میں ملوث ہونے کے سبب پابندی کی مستحق ہے۔

چارج شیٹ میں تفصیل سے بتایا گیا کہ محرم کے دوران شیخوپورہ اور میانوالی میں ٹی ایل پی کے فرقہ وارانہ مظاہروں کے نتیجے میں 70 افراد زخمی اور پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔

مزید برآں، حالیہ مظاہروں میں چھ عام شہری زخمی ہوئے، ایک پولیس اہلکار شہید ہوا اور 47 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ اہلکار عمر بھر کے لیے معذور ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے بعد وزارت داخلہ ضابطے کے مطابق قانونی کارروائی مکمل کرے گی تاکہ تحریک لبیک پاکستان کی سرگرمیاں مؤثر طریقے سے روکی جا سکیں اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں 2021 بھی ٹی ایل پی پر پابندی لگائی گئی تھی، بعدازاں سات ماہ کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔