پاکستانی سیاست ہمیشہ سے ہی الیکٹیبلز کےساتھ منسلک رہی ہے۔حتیٰ کہ پاکستان کے قیام سے پہلے بھی الیکٹیبلز بڑی تعداد میں موجود تھے۔ان کا کردارپاکستان کی انتخابی سیاست پہ ہمیشہ اثرانداز ہوتا رہا ہے۔

ایک ایسا امیدوار جو اپنی ذاتی حیثیت  سے الیکشن جیت سکتا ہو، الیکٹیبل کہلاتا ہے۔ ایسے امیدوار اپنے حلقے  میں مختلف وجوہات کی وجہ سے اثر و رسوخ رکھتے ہیں جن میں برادری، دھڑا، شرافت، تھانہ کچہری کی سیاست، معاشی حیثیت ، سماجی خدمت، عقیدت یا پھر خوف کا عنصر پایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق  الیکٹیبلز کی دو اقسام ہیں کچھ ایسے ہیں جو روایتی طورپر ہی کسی ایک پارٹی سے وابستہ ہیں اور اسی پارٹی سے الیکشن لڑتے ہوئے ہمیشہ جیت جاتے ہیں۔  لیکن کچھ امیدوار ایسے  ہوتے ہیں  جو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑتے ہیں اور جیت جاتے ہیں۔ الیکشن جیتنے کے بعد وہ کسی ایک پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں۔ 

 پاکستان کے چاروں صوبوں میں الیکٹیبلز موجود ہیں۔ کچھ خاندان تو ایسے ہیں جو بیک وقت مختلف پارٹیز سے جڑے ہوئے ہیں۔  کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جن کا ایک بھائی مسلم لیگ  ن میں، دوسرا پیپلز پارٹی میں اور تیسرا تحریک انصاف میں شامل ہے۔

سیاست میں الیکٹیبلز کا کردار آج سے نہیں بلکہ آج سے سو سال پہلے بھی موجود تھا۔  1937 میں جب  پنجاب  کے الیکشن ہوئے تو  جاگیرداروں اور گدی نشینوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعدآل انڈیا مسلم لیگ  کو  شدت سے یہ احساس ہوا کہ اگر ہم نےالیکشن جیتنا ہے تو ہمیں اپنی پارٹی میں جاگیرداروں اور سیاسی تاریخ رکھنے والے امیداروں کو جگہ دینی ہوگی۔  1946 میں مسلم لیگ نے الیکٹیبلز کو   پارٹی میں جگہ دی اور کامیاب ٹھہری۔

یہ بھی پڑھیں

امریکا کا ایران کو زیادہ شدت سے نشانہ بنانے کا اعلان : ’فوج نئے اہداف پر غور کررہی ہے۔‘


پاکستانی سیاست میں پہلی مرتبہ 1970 کے انتخابات میں  پیپلز پارٹی  سے نئے لوگ آئے  جب کہ الیکٹیبلز کا زور ٹوٹا اور متوسط طبقے کے امیدواروں نے کامیابی سمیٹی۔  پروفیسر محمد  صدیق قریشی اپنی کتاب  "پولیٹیکل کلچر  ان پاکستان" میں لکھتے ہیں کہ  سنہ 1970 کے الیکشن میں پہلی بار 55 سیٹیں متوسط طبقے کے حصہ میں آئیں"۔ تاہم اُس الیکشن میں بھی قومی اسمبلی کی 52 سیٹوں پر جاگیردار طبقے کا قبضہ رہا۔ جبکہ پانچ سیٹوں پر سرمایه داروں کی اِجارہ داری قائم ہوئی۔ اس کے بعد  1977 کے الیکشن میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کو الیکٹیبلز پہ انحصار کرنا پڑا ۔

دوسری مرتبہ 2013 کے الیکشن میں پاکستان تحریکِ انصاف سے نئے لوگوں کو موقع ملا  لیکن پی ٹی آئی الیکشن نہ جیت سکی۔ مجبوراً 2018 میں پی ٹی آئی نے الیکیبلز کو اپنے ساتھ ملایا اور الیکشن جیت لیا۔  تا ہم باقی جماعتوں کے مقابلے میں  ابھی بھی پی ٹی آئی  میں متوسط طبقے کی تعداد زیادہ ہے۔  ماہرین کا کہنا ہے  کہ نئے لوگوں کے آنے سے نوجوانوں پہ مثبت اثر پڑے گا اور وہ اپنا  حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

2024 میں ہونے والے الیکشن میں   تحریک انصاف نے اپنی پارٹی میں بے شمار نئے لوگوں کو جگہ دی  اور پی ٹی آئی کے مطابق اس الیکشن میں عوام کی طرف سے  انہیں زبردست حمایت دیکھنے کو ملی مگر الیکشن کی اگلی رات کو نتائج بری طرح سے تبدیل کیے گئے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی حکومت نہ بنا سکے۔

بہت سے لوگ سیاست میں الیکٹیبلز کے کردار پہ تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لوگ بغیر کسی منشور کے صرف خاندانی پسِ منظر یا جاگیردارانہ اثر و رسوخ پہ سیاست کر کے  معصوم عوام کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔  جب کہ دوسری طرف کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایک ایسا انسان جو بچپن سے سیاست اور عوام کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ کسی نئے انسان سے بہتر عوام کے مسائل کو سمجھ سکتا  ہے اور اسمبلی میں پیش کر سکتا ہے۔

عمران خان کی نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملانے کی پالیسی نے سیاسی منظر نامے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  ماہرین کے مطابق آئندہ انتخابات میں الیکٹیبلز کا اثر و رسوخ کم ہوسکتا ہے مگر اس کا خاتمہ ہونا ایک مشکل امر ہے۔