راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وکلا کے حقوق کے تحفظ اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بار عہدیداران اور وکلا کی تجاویز کو اہمیت دی جائے گی اور ان کی جانب سے سامنے آنے والے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وہ ہر تقریب میں شرکت نہیں کرتے تاکہ کسی بھی پروگرام میں ان کی شرکت کو سیاسی سرگرمی سے تعبیر نہ کیا جائے، تاہم راولپنڈی سے ان کا خصوصی تعلق ہے اور وہ یہاں تیسری مرتبہ آئے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور راولپنڈی کے درمیان قربت کے باعث اس علاقے کے وکلا کے ساتھ ان کا مسلسل رابطہ رہتا ہے، بار اور وکلا برادری کے ساتھ یہ رابطہ آئندہ بھی برقرار رکھا جائے گا اور ان کے مسائل کے حل کے لیے دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے اقدامات کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وکلا گزشتہ 25 برس سے اپنے پیشے کو درپیش مشکلات، دباؤ اور دیگر مسائل کے خاتمے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات نے بھی وکلا کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا اور وکلا برادری کو مختلف ادوار میں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے دور حکومت میں لائر پروٹیکشن ایکٹ منظور کیا گیا، جبکہ بعد ازاں قانون پر عملدرآمد کے لیے قواعد بھی وضع کیے گئے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ لائر پروٹیکشن ایکٹ کے بنیادی طور پر دو اہم پہلو ہیں، ایک وکلا کے خلاف ایف آئی آر اور مقدمات سے متعلق ہے جبکہ دوسرا وکلا کی فلاح و بہبود اور انہیں پیشہ ورانہ سہولیات کی فراہمی سے متعلق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لائر پروٹیکشن ایکٹ کو محض قانون کی کتاب تک محدود رکھنے کے بجائے اس پر عملی طور پر عملدرآمد ان کا مسلسل ہدف رہا ہے، اس معاملے میں ماضی کے مقابلے میں صورتحال میں بہتری آئی ہے اور حکومت قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کو حکومتی معاونت فراہم کرنے کے لیے بھی قانون میں ترمیم کی گئی ہے، پہلے قانون میں صرف بار کونسلز کا ذکر تھا، تاہم ترمیم کے بعد بار ایسوسی ایشنز کو بھی اس دائرہ کار میں شامل کرلیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد وکلا کی نمائندہ تنظیموں کو ان کے فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں میں معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ وکلا برادری کو درپیش بنیادی مسائل کے حل میں مدد مل سکے۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی وکلا کے پیشے کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لیے دستیاب محدود وسائل کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، حکومت وکلا برادری کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی سطح پر اقدامات جاری رکھے گی۔
وفاقی وزیر قانون نے بارز کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سالانہ گرانٹ میں اضافے کی تفصیلات بھی بیان کیں، جب وہ 2022 میں وزارت قانون میں آئے تو بارز کے لیے سالانہ گرانٹ 10 کروڑ روپے تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 60 کروڑ روپے کیا گیا اور اب یہ رقم 80 کروڑ روپے سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے بارز کو فراہم کیے جانے والے فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے اور رقم کا باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے، ملک بھر میں بارز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا بھی شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ پنجاب میں بارز کے لیے مختص رقم میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق پنجاب میں بارز کے لیے مختص 50 کروڑ روپے کی رقم کو بڑھا کر ایک ارب روپے کردیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران پنجاب کی بار ایسوسی ایشنز کو 99 کروڑ 50 لاکھ روپے فراہم کیے گئے تاکہ وکلا کے فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھا جاسکے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وکلا برادری کی جانب سے قانون سازی، اختیارات کی تقسیم اور دیگر قانونی امور سے متعلق بھی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ان معاملات پر مختلف فورمز پر بحث جاری ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ موجود ابہام کو دور کرکے معاملات کو واضح کیا جائے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت اور وکلا برادری کے درمیان رابطہ اور مشاورت کا عمل جاری رہنا چاہیے تاکہ قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے موجود مسائل کو باہمی مشاورت سے حل کیا جاسکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وکلا کے تحفظ، فلاح و بہبود اور پیشہ ورانہ امور میں بہتری کے لیے قانون پر مؤثر عملدرآمد اور بارز کو درکار معاونت کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔







