وزیراعظم محمد شہباز شریف کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ کئ پرخلوص کوششوں سے افغان حکومت کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی آپ دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کرنا چھوڑ دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے وسائل لا محدود نہیں محدود ہیں لیکن ہم نےپھر بھی لاکھوں افغان بھائیوں کی سالوں تک مہمان نوازی کی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مہمان نوازی کے بدلے میں افغانستان سے دہشت گردی مل رہی ہے، آئے روز عام شہریوں اور پاک فوج کے جوانوں پر حملے کیے جاتے ہیں لیکن حالیہ واقعے کے بعد پاکستان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزرا، وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر حکام نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا اور افغان قیادت کو باور کرایا کہ پاکستان اور افغانستان ہمسائے ہیں اور ہمیں قیامت تک ایک ساتھ رہنا ہے۔ یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم کیسے رہنا چاہتے ہیں، اگر پُرامن رہیں گے تو دونوں ملک ترقی کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری مسلسل کوششوں کے باوجود کوئی پائیدار حل سامنے نہیں آ سکا۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب ہمارے خلاف حملے ہو رہے تھے، افغان وزیر خارجہ اس وقت انڈیا میں موجود تھے، ہمیں مجبوراً ان حملوں کا جواب دینا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے سیز فائر کی درخواست کی، جسے پاکستان نے انسانی بنیادوں پر قبول کیا۔ اگر یہ سیز فائر صرف وقت حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے، ہمیں ایک ٹھوس، دیرپا معاہدہ چاہیے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ جن شہداء کے جنازے ہم نے پڑھے، ان کے اہلخانہ نے مجھ سے کہا کہ ہمیں ان پر فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2018 میں فتنۃ الخوارج کا خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن بعد میں اس وقت کی حکومت نے ہزاروں دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دی اور انہیں خوش آمدید کہا، یہی وجہ ہے کہ یہ فتنہ دوبارہ سر اٹھانے میں کامیاب ہوا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ امن ہماری ترجیح ہے، مگر دہشت گردی کی پشت پناہی برداشت نہیں کی جا سکتی، ہم امن چاہتے ہیں، کمزوری نہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قطر امن کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ امیرِ قطر نے مصر کے دورے کے دوران مجھ سے کہا کہ پاکستان کے خلاف حملے نہیں ہونے چاہییں اور انہوں نے ثالثی کے لیے کردار ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک، بالخصوص قطر، ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں طویل خونریزی کے بعد بالآخر امن معاہدہ طے پا گیا۔ 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔ اس دوران پاکستان، قطر، ترکیہ، مصر، سعودی عرب اور انڈونیشیا نے امن کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں کیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب دنیا غزہ میں قیام امن کے لیے کوشاں تھی، کچھ لوگ یہاں سیاست چمکا رہے تھے۔ غزہ کے شہداء کے لہو پر سیاست کرنا نہ اسلام ہے نہ بھائی چارہ۔ وزیراعظم نے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ وہاں کے عوام کو حقِ خودارادیت مل سکے۔
خطاب کے آخر میں شہباز شریف نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کا معاہدہ ہو چکا ہے، جلد ہی اگلی قسط ملے گی، لیکن یہ قسط آخری ہونی چاہیے۔ ہمیں اب اپنے وسائل پر انحصار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان لاکھوں شہداء کی قربانیوں سے حاصل ہوا جنہوں نے ایک آزاد، خوشحال اور خودمختار اسلامی ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ کیا پاکستان اس لیے بنا تھا کہ ہم دوسروں کے رحم و کرم پر رہیں؟ ہمیں اب اپنی معیشت کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہوگا تاکہ ہم اسلامی دنیا کی قیادت کر سکیں۔
وزیراعظم نے اجلاس کے بعد نو منتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شہریار آفریدی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مبارک باد بھی پیش کی۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مفاد کے لیے وفاق آپ کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہے۔







