وزارتِ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا جائے۔ حساس اور عوامی تنصیبات کے قریب ڈرون اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔

دوسری جانب محکمہ داخلہ بلوچستان نے بھی اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صوبے بھر میں ڈرونز، یو اے ویز، کواڈ کاپٹرز، کیم کاپٹرز اور دیگر ریموٹ کنٹرول فضائی آلات کے استعمال، قبضے اور آپریشن پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نگرانی، جاسوسی، ممنوعہ اشیاء اور دھماکہ خیز مواد کی ترسیل، خوف و ہراس پھیلانے اور امن و امان میں خلل ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی تحفظ، حساس اور اہم تنصیبات، عوامی اجتماعات اور اہم شخصیات و قافلوں کی نقل و حرکت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ نے ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے بھر میں ڈرونز کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے، جو فوری طور پر نافذالعمل ہوگی اور تاحکمِ ثانی برقرار رہے گی۔

حکم نامے کے مطابق پولیس اور فرنٹیئر کور کو پابندی پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جب کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 تعزیراتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ دو روز قبل حکومت پنجاب نے بھی صوبہ بھر میں 30 دن کے لیے ڈرون اڑانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔