اجلاس میں ترقی کی نئی راہیں کھولنے کے لیے تھل ایکسپریس وے پراجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو گودار اور دیگر علاقوں کو ترقی کی سڑک سے ملائے گا۔

 صوبائی حکومت نے اعلان کیا کہ پنجاب میں 20 ہزار روڈ پراجیکٹس کے ذریعے 50 ہزار افراد کو باعزت روزگار فراہم کیا جائے گا، جس سے ہزاروں خاندانوں کی تقدیر بدلے گی اور معاشی بہتری آئے گی۔ مجموعی طور پر صوبے میں 30 ہزار کلومیٹر سے زائد سڑکوں کی تعمیر و مرمت ہوگی۔

مزید برآں، 100 سال تک چلنے والی خصوصی پلاسٹک سیوریج لائن کا تاریخی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ پہلے فیز کے تحت 440 ماڈل ویلجز دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، جن میں ڈرین، پینے کا صاف پانی، پارک اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کے تحت 1 لاکھ 15 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر شروع کی گئی، جب کہ پنجاب میں اپنی نوعیت کا پہلا سالٹ ویلج بھی قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔ عوامی خدمت اور روزگار کے نئے مواقع کے لیے پنجاب میں پہلا منفرد فارماسیوٹیکل زون قائم کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کے پہلے فیز میں قرضوں کی 100 فیصد واپسی کا ریکارڈ بھی جمع کیا گیا، اور واسا کے مراکز کی تعداد پانچ سے بڑھا کر 19 کردی گئی ہے۔ پانی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے 1000 ری چارج ویل اور 100 سے زائد انڈرگراؤنڈ سٹوریج واٹر ٹینک تعمیر کیے جائیں گے۔

اہم سڑکوں اور منصوبوں میں پیش رفت کی ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے وہاڑی-ملتان روڈ کو جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ صوبے میں 5500 واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل طور پر فنکشنل کر دیے گئے، جب کہ ہسپتالوں، تھانوں اور سکولوں میں مزید 4500 پلانٹس قائم کیے جائیں گے۔ شہری خدمات کے لیے ایک ہی ہیلپ لائن کا قیام بھی اصولی طور پر منظور کیا گیا ہے۔

کاشتکاروں کے لیے تیسرے فیز کے تحت 43 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے اور ڈیڑھ سال کے اندر 30 ہزار سے زائد ٹریکٹرز کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ عوامی خدمت کے اہداف پورے کرنے پر ٹیم پنجاب کو شاباش دیتی ہوں، وزراء اور انتظامیہ کے تعاون کے بغیر اہداف کا حصول ناممکن تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سطح پر بھی پنجاب کے اقدامات کی تعریف کی گئی ہے۔ برازیل کے COP30 اجلاس میں پاکستانی انکلیوژر کی کارکردگی سراہا گیا، جب کہ فلپائن نے سموگ کنٹرول کے لیے پنجاب سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔

 وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماضی میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے ذریعے لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا، لیکن اب فوری اور ماحول دوست فیصلے کیے جائیں گے اور کوئی سڑک یا پل ٹوٹا نہیں رہے گا۔