اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت کی جانب سے شروع کی گئی بچت مہم کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ کفایت شعاری سے حاصل ہونے والی تمام رقوم عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں اور ریلیف اقدامات کے لیے استعمال کی جائیں گی تاکہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا،عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے بچنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح ریاستی ملکیتی اداروں اور حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والے خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں مرحلہ وار 5 سے 30 فیصد تک کمی کی جائے گی،اس اقدام سے حاصل ہونے والی رقم کو قومی خزانے میں شامل کر کے عوامی ریلیف کے اقدامات پر خرچ کیا جائے گا۔
مزید یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ وہ کارپوریشنز اور ادارے جن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں حکومت کے نمائندے شامل ہیں، وہاں سرکاری نمائندے آئندہ بورڈ اجلاسوں کی فیس وصول نہیں کریں گے اور اس مد میں بچنے والی رقم بھی قومی بچت فنڈ میں جمع کرائی جائے گی۔
وزیراعظم نے اجلاس کے دوران دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت جاری کی کہ قومی دن یومِ پاکستان کی تقریبات 23 مارچ کو انتہائی سادگی کے ساتھ منعقد کی جائیں اور غیر ضروری اخراجات سے گریز کیا جائے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی وضاحت کی گئی کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اورفیڈرل بورڈ آف ریونیو کے عملے پر ہفتے میں چار دن کام کرنے کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا اور یہ ادارے معمول کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے تاکہ ریاستی امور اور ٹیکس وصولی کا نظام متاثر نہ ہو۔
حکومت نے آئندہ دو ماہ تک سرکاری گاڑیوں کے لیے فراہم کیے جانے والے ایندھن میں 50 فیصد کمی کرنے اور تقریباً 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو عارضی طور پر گراؤنڈ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا بھی اعلان کیا گیا۔
اجلاس میں نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر عائد مکمل پابندی اور دیگر غیر ضروری سرکاری خریداریوں پر بھی پابندی کے فیصلے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا،وزیراعظم کو بتایا کہ ان اقدامات کے ذریعے سرکاری اخراجات میں نمایاں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ تک وفاقی کابینہ کے ارکان، وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہیں بھی قومی خزانے میں بطور بچت جمع کی جائیں گی تاکہ اس رقم کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ وزراء اور سرکاری عہدیداروں کے بیرون ملک دوروں پر عائد پابندی برقرار رکھنے اور سرکاری اجلاسوں کے لیے ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے اختتام پر ہدایت دی کہ تمام کفایت شعاری اور سادگی کے اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے متعلقہ سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ ان اقدامات کی نگرانی کریں اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے متعلق جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور حکومتی معاشی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔







