اجلاس میں کابینہ نے اسلامی اصولوں کے تحت خیبر پختونخوا جنرل تکافل کمپنی اور خیبر پختونخوا فیملی تکافل کمپنی کے قیام کی منظوری دے دی۔ جنرل تکافل کے لیے 2 ارب روپے، جب کہ فیملی تکافل کے لیے 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق 1990 میں خیبر بینک کے قیام کے بعد یہ صوبے میں اس نوعیت کا پہلا نیا ادارہ ہوگا۔ جنرل تکافل صحت اور دیگر خطرات کی کوریج فراہم کرے گی، جب کہ فیملی تکافل وفات کی صورت میں خاندان کی مالی کفالت کو یقینی بنائے گی۔

کابینہ نے خیبر پختونخوا سیف سٹیز منصوبے کے لیے 3 ارب 82 کروڑ 50 لاکھ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی۔ منصوبہ پہلے مرحلے میں پشاور جب کہ دوسرے مرحلے میں ڈی آئی خان، بنوں، لکی مروت اور شمالی وزیرستان تک توسیع پا چکا ہے۔ حکام کے مطابق دائرۂ کار میں اضافے کے باعث اضافی فنڈز کی ضرورت پیش آئی۔

اجلاس میں سابقہ فاٹا میں رسالدار اور دفادار کی پوسٹوں کے انضمام سے متعلق سفارشات منظور کی گئیں، جن کے تحت رہ جانے والی 16 پوسٹوں کے نامنکلیچر کی منظوری دی گئی۔ قواعد و ضوابط کی تکمیل کے بعد ان پوسٹوں کو پولیس میں ضم کیا جائے گا۔

کابینہ نے سابقہ فاٹا کے طلبہ کے لیے میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں مختص کوٹہ سسٹم سے متعلق لائحہ عمل کی بھی منظوری دی، جس کے تحت جنوبی وزیرستان کے دو اضلاع میں تقسیم کے بعد میرٹ کی بنیاد پر کوٹہ برقرار رکھا جائے گا۔

اجلاس میں اسلام آباد میں نیشنل فنانس کمیشن کے لیے خیبر پختونخوا سیل کے قیام، خیبر پختونخوا ٹریڈ ٹیسٹنگ بورڈ کی تشکیل نو، اور رشکئی سی پیک اکنامک زون کے اطراف سیکیورٹی و ترقیاتی ضروریات کے لیے 19 کروڑ 90 لاکھ روپے کے فنڈ کی منظوری دی گئی۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لیے 16 کروڑ 80 لاکھ روپے کی گرانٹ اور خیبر پختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے بجٹ تخمینوں کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے مانسہرہ گریویٹی واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 4 گاڑیوں کی خریداری، سال 2025 کے سیلاب کے دوران متاثر ہونے والے رکشوں، پیٹرول پمپوں، دکانوں، گاڑیوں، چکیوں اور فیکٹریوں کے مالکان کے لیے مالی معاونت، اور احساس ایجوکیشن انٹرن شپ پروگرام کے آغاز کی منظوری بھی دی۔

یہ پروگرام 207 ملین روپے سے شروع کیا جائے گا اور تین سال میں ہر سال 850 نوجوانوں کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

لازمی پڑھیں: مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگرپی ٹی آئی توگالیاں دیتی ہے، خواجہ آصف

اجلاس میں کنٹریکٹ پر تعینات 1,144 اسکول لیڈرز کو مزید مواقع دینے، مالی مشکلات کے شکار 9 مریضوں کے مہنگے علاج کے اخراجات کے لیے امداد، پشاور کے 6 بنیادی مراکز صحت کو رورل ہیلتھ سینٹرز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے آؤٹ سورس ہسپتالوں کے لیے نئے میکانزم کے تحت معاہدوں، پاک بھارت جنگ کے شہداء و زخمیوں کے لیے خصوصی معاوضہ پیکیج، اور شہید مفتی فضل رحمان کے صاحبزادے شہید نور رحمان کے لیے ایک ملین روپے کے سولین وکٹم کمپنسیشن پیکیج کی منظوری دی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے رولز آف بزنس میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی، جبکہ گوجرانوالہ میں پنجاب پولیس کی حراست میں خیبر پختونخوا کے دو شہریوں کے ماورائے عدالت قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی انکوائری کرانے کے احکامات جاری کیے گئے۔