ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ آفریدی کی آفیشل ٹیم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت نے ابھی تک اس بارے میں کوئی واضح وضاحت یا بیان جاری نہیں کیا ہے۔ البتہ پارٹی کے سوشل میڈیا سے منسلک ایک سینئر رہنما نے تصدیق کی کہ سہیل آفریدی نے اس دن احتجاج میں شرکت نہیں کی، لیکن اس کے باوجود انہوں نے سوشل میڈیا مہم اور کارکنان کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کیا۔

شیڈول میں شامل نہیں تھی شرکت

رہنما کے مطابق، سہیل آفریدی نے 8 فروری کے احتجاج کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا اور تمام منتخب اراکین کو اپنے اضلاع میں کارکنان کو متحرک کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ خود وزیراعلیٰ احتجاج میں کیوں شریک نہیں ہوئے، تو ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جو نام شیئر کیے گئے، ان میں سہیل آفریدی کا نام شامل نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وزیراعلیٰ کی شرکت عوامی شیڈول میں شامل نہیں تھی، اور وہ انتظامی نگرانی میں مصروف رہے۔

احتجاج کی خود نگرانی کرتے رہے وزیراعلیٰ

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ ہر لمحے احتجاج کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے تھے اور صوبے کے تمام قائدین سے مسلسل رابطے میں رہے تاکہ احتجاج کامیاب ہو۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے خود شرکت نہ کرنے کے باوجود پارٹی کے تمام قائدین اور منتخب اراکین کو بھرپور طریقے سے کام کرنے کی ہدایت دی اور جن قائدین نے غیر حاضر رہ کر کارکنان کی کوششوں کو متاثر کیا، ان سے ناراضگی بھی ظاہر کی۔

پارٹی کارکنان میں مایوسی

پشاور کے چوک یادگار میں موجود پی ٹی آئی کارکنان نے بتایا کہ انہیں توقع تھی کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خود احتجاج میں شرکت کریں گے اور کارکنان سے خطاب کریں گے، لیکن ان کی غیر موجودگی نے کارکنان میں مایوسی پیدا کی۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ احتجاج کی کامیابی کا دار و مدار قائدین کی موجودگی پر ہے، اور 8 فروری کے احتجاج میں اہم قائدین کی غیر موجودگی پارٹی کے لیے سوالات پیدا کر رہی ہے۔

سہیل آفریدی کی غیر موجودگی کی وجوہات اور قیاس آرائیاں

سہیل آفریدی کی غیر موجودگی کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں کہ کہیں یہ کسی سیاسی مفاہمت یا اعلیٰ حلقوں کے دباؤ کا نتیجہ تو نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیراعلیٰ اب وفاق اور اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا اشارہ ان کی حالیہ ملاقاتوں اور اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے ملتا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار عارف حیات کے مطابق، سہیل آفریدی نے بعض طاقتور حلقوں کے دباؤ کے بعد نرم موقف اختیار کیا ہے، اور عمران خان سے مستقبل قریب میں ملاقات کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے 8 فروری کے احتجاج میں عدم شرکت ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

پارٹی کے اندر ماحول

پارٹی کے اندرونی حلقوں میں اب بحث یہ ہے کہ اگر سہیل آفریدی جیسے اعلیٰ قائدین خود احتجاج میں نہیں نکلے تو کارکنان سے توقعات رکھنا کہاں تک درست ہے۔ اس صورتحال نے پارٹی میں عدم اطمینان اور کارکنان کی مایوسی کو بڑھا دیا ہے، جبکہ کچھ رہنما اب بھی احتجاجی کارروائیوں اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔