وزیراعلیٰ آفس کے مطابق کابینہ میں 10 وزرا، 2 مشیر اور ایک معاونِ خصوصی شامل کیے گئے ہیں۔ وزرا میں مینا خان آفریدی، ارشد ایوب خان، امجد علی، آفتاب عالم خان، فضل شکور خان، خلیق الرحمٰن، ریاض خان، سید فخر جہاں، عاقب اللہ خان اور فیصل خان شامل ہیں۔ کابینہ کا اعلان چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا۔

مشیر کے طور پر مزمل اسلم اور تاج محمد کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ شفیع جان کو وزیراعلیٰ کا معاونِ خصوصی مقرر کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی نے زیادہ تر وہی ارکان کابینہ میں شامل کیے ہیں جو سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی کابینہ کا حصہ تھے، تاہم کچھ نئے چہرے بھی شامل کیے گئے ہیں۔

کابینہ میں زیادہ تر منتخب اراکین اسمبلی کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ واحد غیر منتخب رکن مزمل اسلم ہیں جو علی امین گنڈاپور کی کابینہ میں مشیرِ خزانہ کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ سابق مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کو اس بار کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔

علی امین گنڈاپور کے برطرف کیے گئے شہرام ترکئی کے بھائی فیصل ترکئی اور سابق اسپیکر اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ خان کو بھی کابینہ میں جگہ دی گئی ہے۔

نئی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس پشاور میں ہوگی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی کابینہ میں زیادہ تر پرانے ارکان کو برقرار رکھا گیا ہے، تاہم کسی خاتون کو شامل نہ کیے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلیٰ نے تمام اضلاع سے نمائندگی دے کر اور زیادہ تر منتخب ارکان کو شامل کر کے پارٹی کے اندرونی اختلافات کم کرنے اور سیاسی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔