سلمیٰ بٹ کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا ویژن عوام اور کسانوں کو براہِ راست سہولتیں فراہم کرنا ہے، جس پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔ ان کے مطابق مریم نواز ہمیشہ کسانوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں اور حکومتی ریلیف کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گندم کی بوائی کے مرحلے پر بیج اور کھاد کی مد میں 125 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں صوبے میں نہ صرف گندم کا مقررہ ہدف حاصل کیا گیا بلکہ 5 لاکھ ایکڑ اضافی رقبے پر کاشت بھی ممکن ہوئی۔
ان کے مطابق پنجاب گندم 2026 پالیسی کے تحت گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے 35 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی جائے گی۔ گندم کی خرید، ذخیرہ اندوزی اور سٹوریج کی ذمہ داری بھی نجی شعبے کو دی جا رہی ہے، جبکہ حکومت نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنائے گی۔
مزید پڑھیں: آئمہ کرام معاشرے کے ستون اور دین کے علمبردار ہیں، ان کی خدمت اعزاز ہے: مریم نواز
انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں سرکاری نظام کے بجائے پرائیویٹ لیڈ گندم خریداری ماڈل متعارف کرایا گیا ہے۔ اوپن بڈنگ کے ذریعے پرائیویٹ سیکٹر کا انتخاب کیا جائے گا، جبکہ حکومت، بینکس اور نجی شعبہ اس عمل میں اسٹریٹجک شراکت دار ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گندم پالیسی کے تحت ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے، جبکہ ویئر ہاؤسز کو بھی آؤٹ سورس کیا جائے گا۔ کسی بھی ممکنہ قلت کی صورت میں اسٹریٹجک ذخائر استعمال میں لائے جائیں گے۔
انہوں نے مزیدکہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے وعدوں پر عملدرآمد کر رہی ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام اور کسانوں کے لیے نئے ریلیف اقدامات سامنے آ رہے ہیں۔







