مراسلے میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے دورہ لاہور کے دوران معاملات کو جس انداز میں نمٹایا گیا، وہ محض کوتاہی نہیں بلکہ دانستہ طرزِ عمل تھا۔ یہ نہ انتظامی نقص تھا اور نہ اتفاقی واقعہ بلکہ ایک آئینی عہدے اور بین الصوبائی احترام کو متاثر کیا گیا۔

انہوں نے لکھا کہ میں 40 ملین عوام کے نمائندے کے طور پر لاہور آیا تھا، مگر جو کچھ پیش آیا وہ ایک عوامی نمائندے کے شایانِ شان نہ تھا۔ دورے کے دوران مارکیٹیں اور عوامی مقامات بند کیے گئے جس سے لاہور کے شہریوں کو تکلیف پہنچی، جب کہ موٹروے کے ریسٹ ایریاز بھی بند رکھے گئے۔

سہیل آفریدی نے لکھا کہ ان کے دورے کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی اور اسے منشیات اسمگلنگ جیسے الزامات سے جوڑا گیا، جو پنجاب حکومت کی نگرانی میں ہوا۔ ان کے بقول اس انداز نے ان کی شخصیت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کی، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مراسلے میں کہا گیا کہ انتظامی سطح پر ایسے حربے استعمال کیے گئے جن کا مقصد تضحیک تھا اور اس طرزِ عمل سے ریاستی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے مراسلے میں توقع ظاہر کی کہ اس طرزِ عمل کا ازالہ کیا جائے گا اور آئندہ ایسے اقدامات سے مکمل گریز برتا جائے گا۔

آخر میں انہوں نے اس خط کو باضابطہ احتجاجی مراسلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے مستقبل میں کسی بھی آئینی، قانونی یا بین الصوبائی کارروائی کے لیے ریکارڈ کا حصہ سمجھا جائے۔