انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی شہباز اسپیڈ دکھائیں اور دیامر بھاشا ڈیم منصوبہ جلد مکمل کریں۔

دیامر میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے الزام عائد کیا کہ 2013 میں آصف علی زرداری کی حکومت کو ایک سازش کے تحت ختم کرایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت حکومت ختم نہ ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم آج تک مکمل ہو چکا ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے، تاہم ان سے نو نشستیں چھین لی گئی تھیں۔ اس بار عوام ایک جیالا وزیراعلیٰ منتخب کریں گے، جبکہ پیپلز پارٹی دو سال بعد ہونے والے عام انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے غریب عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی غریبوں کی آواز تھیں اور انہوں نے عوام کی خدمت کی۔

انہوں نے کہا کہ سازشی عناصر نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کیا اور یہ سمجھا کہ ان کے بعد کوئی قیادت باقی نہیں رہے گی، تاہم ان کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا، سی پیک کی بنیاد رکھی اور گلگت بلتستان کو اس کی موجودہ شناخت دی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے اس خطے کو ناردرن ایریاز کہا جاتا تھا۔ بلاول نے کہا کہ اگر آصف علی زرداری کی حکومت ختم نہ ہوتی تو دیامر بھاشا ڈیم مکمل ہو چکا ہوتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 7 جون کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بنے گی اور یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیامر بھاشا ڈیم کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے کیونکہ یہ پاکستان کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ دیگر تمام ترقیاتی منصوبوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے اپنے اتحادی وزیراعظم شہباز شریف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ جلد از جلد دیامر بھاشا ڈیم مکمل کریں اور اپنی شہباز اسپیڈ دکھائیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ آج ملک کو پیپلز پارٹی جیسی حکومت کی ضرورت ہے جو عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف مضبوطی سے پیش کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض ممالک کو پاکستان میں فوجی اڈے بنانے کی اجازت دی گئی، جہاں سے دیگر ممالک پر حملے کیے جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان اڈوں کو بند کیا اور غیر ملکی افواج کو رخصت کیا، جو پیپلز پارٹی کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

دوسری جانب ہنزہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ عوام کے پاس آ کر بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، لیکن بعد میں بند دروازوں کے پیچھے عوامی مفادات کا سودا کر لیتے ہیں۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نفرت اور تقسیم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ محبت، وفا اور خدمت کی سیاست کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کی محبت اور خلوص کو کبھی فراموش نہیں کر سکتیں۔ آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو آواز دی، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے عوام کے حقوق کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا اور والدہ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور عوام کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں۔