وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی کابینہ کے متعدد اہم ارکان بھی موجود تھے جن میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان، وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور معاون خصوصی طلحہ برکی شامل تھے۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گورنر گلگت بلتستان اور نگران وزیراعلیٰ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، امن و امان کی صورتحال اور انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حکام نے وزیراعظم کو مختلف منصوبوں کی پیش رفت اور درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم کی جانب سے گلگت بلتستان میں متعدد اہم اور عوامی فلاحی منصوبوں کا افتتاح کیا جائے گا۔ ان منصوبوں میں قابلِ تجدید توانائی کے تحت سولر پاور پراجیکٹس، جدید سیف سٹیز سسٹم، نوجوانوں کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم اور یوتھ بزنس و ایگری لون اسکیم شامل ہیں، جن کا مقصد روزگار کے مواقع بڑھانا اور خطے کی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان امن کا علمبردار ہے ،مگر خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا: اسحاق ڈار
اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم چار دانش اسکولوں کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے، جن کا مقصد گلگت بلتستان میں معیاری تعلیم کی سہولیات کو فروغ دینا اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کا یہ دورہ گلگت بلتستان میں ترقیاتی رفتار کو مزید تیز کرنے، نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔







